ایف آئی اے کی حوالہ ہنڈی نیٹ ورک کیخلاف ملیر کینٹ میں کارروائی، 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
— جنگ فوٹو
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حوالہ ہنڈی نیٹ ورک کے خلاف ملیر کینٹ میں کارروائی کر کے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی کے عملے نے حوالہ ہنڈی اور کرنسی کی غیر قانونی ایکسچینج میں ملوث منظم گروہ کے 2 ملزمان کو ملیر کینٹ سے گرفتار کر لیا۔
حکّام کے مطابق گرفتار ملزمان نور الحق سومرو اور عبدالرشید کراچی میں حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے کاروبار میں ملوث ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ موٹر وے کیلئے زمین خریداری میں بھی کرپشن کی شکایت پر انکوائری کا آغاز کیا گیا
حکّام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 12 ہزار امریکی ڈالرز، 200 سعودی ریال اور 20 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے۔
حکّام کے مطابق ملزمان کے قبضے سے برآمد موبائل فون سے حوالہ ہنڈی کے بارے میں شواہد بھی برامد کر لیے گئے ہیں۔
حکّام نے بتایا ہے کہ ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج میں ملوث تھے۔
حکّام کے مطابق برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے ملزمان ایف آئی اے کو مطمئن نہ کر سکے جس کے بعد ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حوالہ ہنڈی ایف آئی اے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ