اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نامور اداکارہ حریم فاروق نے حالیہ گفتگو میں اپنی شادی کے حوالے سے کھل کر بات کی اور واضح کیا کہ وہ ایسا شریکِ حیات چاہتی ہیں جو کسی قسم کی شرط عائد نہ کرے بلکہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان ہو انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ دنوں میں ان سے شادی کے متعلق سوالات میں اضافہ ہو گیا ہے جس پر وہ خود بھی حیران ہیں ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے جیسے واقعی ان کی شادی کا وقت قریب آ گیا ہے کیونکہ ہر طرف یہی سوالات کیے جا رہے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ حقیقت میں دلہن بنیں تو اپنے برائیڈل ڈریس کے انتخاب کے حوالے سے کیا سوچ رکھتی ہیں، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن انہیں خوشی ہوتی ہے جب لوگ انہیں عروسی لباس میں پسند کرتے ہیں اداکارہ نے اپنی گفتگو کے دوران اس دلچسپ نکتے پر بھی روشنی ڈالی کہ انہوں نے مختلف اداکاروں کے ساتھ کام کیا مگر ان کے ساتھ کام کرنے سے شادی کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا جب کہ دیگر اداکارائیں کام کے دوران ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ دنوں میں ان کے والدین بھی ان سے بار بار شادی کے بارے میں سوالات کرنے لگے ہیں جس پر وہ والدین کو یہی جواب دیتی ہیں کہ جب دل چاہے گا یا جب کوئی مناسب شخص ملے گا تو شادی کر لیں گی انہوں نے مزید کہا کہ اکثر رشتے آتے ہیں مگر والدین انہیں مسترد کر دیتے ہیں اور مزاحیہ انداز میں کہتی ہیں کہ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی لڑکے کا رشتہ لے آئے تو والدین حیران ہو کر کہتے ہیں کہ اس کی ہمت کیسے ہوئی! تاہم ان کے والدین نے کبھی اپنی خواہش ان پر مسلط نہیں کی اور نہ ہی کبھی یہ کہا کہ چونکہ وہ ڈاکٹر ہیں اس لیے ان کی بیٹی کو بھی کسی خاص پیشے سے تعلق رکھنے والے شخص سے شادی کرنی چاہیے ان کے مطابق والدین کی واحد ترجیح یہی ہے کہ جس شخص سے شادی ہو وہ ایک اچھا انسان ہو اور بنیادی اخلاقی اقدار کا احترام کرے انہوں نے مزید کہا کہ ان کے گھر میں اصول اور اقدار بہت اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں مکمل آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں مگر کچھ بنیادی ریڈ لائنز ایسی ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جا سکتا ان کا ماننا ہے کہ شادی کسی دباؤ یا سماجی دباؤ کے تحت نہیں ہونی چاہیے بلکہ دونوں افراد کی باہمی ہم آہنگی اور رضامندی سے ہونی چاہیے انہوں نے واضح کیا کہ وہ شادی کو ایک خوبصورت بندھن سمجھتی ہیں اور جب انہیں کوئی ایسا شخص ملے گا جو ان کی اقدار سے ہم آہنگ ہو تو وہ بغیر کسی جھجک کے شادی کا فیصلہ کر لیں گی
مزیدپڑھیں:وفاقی شرعی عدالت کا بڑا فیصلہ، خواتین کو وراثت سے محروم کرنا غیراسلامی قرار

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: انہوں نے شادی کے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی