خواہش ہے پاکستان عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے:آسٹریلوی ہائی کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے کہا ہے کہ خواہش ہے پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق آسٹریلوی حکومت پاکستان میں ہاکی کے فروغ کے لئے بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کرے گی، پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اولمپئین اصلاح الدین اینڈ ڈاکٹر شاہ ہاکی اکیڈمی کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں اکیڈمی کے چیئرمین اولمپئین اصلاح الدین اور اولمپئین سمیر حسین نے ان کا استقبال کیا۔
نیل ہاکنز نے کہا کہ آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار سفارتی تعلقات ہیں، کھیلوں کی بدولت دونوں ممالک اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اولمپئین اصلاح الدین ہاکی اکیڈمی کو آسٹریلیا میں خوش آمدید کہا جائے گا، آسٹریلوی حکومت ہاکی کی ترقی کے لئے اکیڈمی کے ساتھ تعاون کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ماضی میں انٹرنیشنل ہاکی میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، اچھے نتائج کے لئے سخت محنت کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ نیل ہاکنز نے اکیڈمی میں زیر تربیت بچوں کی کارکردگی کو سراہا، ان کے ساتھ ہاکی کھیلی اور ہاکی سٹکس، گیندیں اور دیگر سامان بھی تقسیم کیا۔ انہوں نے اکیڈمی میں فراہم کردہ سہولیات کو بھی قابل ستائش قرار دیا۔
اس موقع پر اولمپئین اصلاح الدین صدیقی نے خیرمقدمی کلمات ادا کئے اور غیرمعمولی تعاون پر سندھ حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی کھیل ہاکی کے فروغ کے لئے اکیڈمی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور گراس روٹ لیول پر کھلاڑیوں کی تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا انٹرنیشنل ہاکی میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اور ان کی خواہش ہے کہ اکیڈمی کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی آسٹریلیا جا کر ہاکی کی تربیت حاصل کریں۔
پاک بحریہ اور روسی بحریہ کی مشق عربین مون سون VI کا بحیرۂ عرب میں انعقاد
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اکیڈمی کے ہاکی میں انہوں نے کہا کہ کے لئے نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔