کراچی میں ایف آئی اے کی کارروائی کے دوران 2 ملزمان گرفتار، 12 ہزار ڈالر برآمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل نے کراچی میں حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی ایکسچینج کے کام میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر کے 12 ہزار امریکی ڈالرز سمیت دیگر نقدی برآمد کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی نے حوالہ ہنڈی اورغیرقانونی کرنسی ایکسچینج کے خلاف کارروائی کے دوران غیرملکی کرنسی برآمد کرکے 2ملزمان کوگرفتارکرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق حوالہ ہنڈی اورغیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث منظم گینگ کے خلاف چھاپہ مارکارروائی کے دوران گرفتارملزمان کی شناخت نورالحق سومرواورعبد الرشید کے نام سے ہوئی۔
ملزمان کوکارروائی کے دوران ملیر کینٹ سے گرفتار کیا گیا، چھاپہ مار کاروائی میں ملزمان سے 12000 امریکی ڈالر ، 200 سعودی ریال اور20 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے موبائل فون اورحوالہ ہنڈی سے متعلق شواہد بھی برآمد کر لیےگئے، ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج میں ملوث تھے۔
ترجمان کے مطابق ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کومطمئن نہ کرسکے،گرفتارملزمان سےتفتیش کا آغازکردیا گیا جبکہ دیگرکی گرفتاری کے لئےچھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک