’بیوی کی توہین نہیں کی‘ دانش تیمور نے 4 شادیوں سے متعلق اپنے بیان پر معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
پاکستان کے معروف اداکار و میزبان دانش تیمور نے گزشتہ دنوں 4 شادیوں کی اجازت سے متعلق دیے گئے اپنے بیان پر وضاحت پیش کر دی ہے۔
دانش تیمور کا بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں جانتا ہوں آپ لوگ مجھ سے ناراض ہیں، اس دن جو واقعہ ہوا کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کی توہین کی ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں‘۔
اداکار کا کہنا تھا کہ ’شاید الفاظ کا چناؤ ٹھیک نہیں ہوا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ فی الحال کا لفظ میں اپنی زندگی میں استعمال کرتا ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہم ہمیشہ کے لیے اس دنیا میں نہیں آئے، ہم موجودہ زندگی کی بات کرتے ہیں لیکن وہ لفظ وہاں استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا‘۔
دانش تیمور نے کہا کہ ’شادی کو 18 سال ہو گئے ہیں اور زندگی میں ابھی تک کوئی تنازعہ نہیں بنا اور میں چاہوں گا کہ اس بات کو بھی ہم یہیں پر ختم کریں کیونکہ جب میری ایسی نیت اور ارادہ نہیں ہے تو بات کو بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پھر بھی اگر لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی دل آزاری ہوئی ہے، میں نے کوئی ایسی بات کہہ دی ہے جو ان کو بری لگ رہی ہے تو میں دل سے معافی مانگتا ہوں‘۔
اداکار کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ آپ لوگ میری کسی بات سے ناراض ہوں میں یہاں آپ لوگوں کو تفریح فراہم کرنے آیا ہوں، اپنی زندگی میں نے اس کام کے لیے دی ہوئی ہے، لوگ مجھ سے خوش ہوتے ہیں، میں یہی چاہوں گا کہ آپ لوگ ہمیشہ خوش رہیں جیسے میں اپنے گھر میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ خوش ہوں، اور میرے اور عائزہ کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم الحمد للہ بہت خوش ہیں اس لیے آپ بھی اپنی زندگیوں میں خوش رہیں اور ہمیں دعاؤں میں بھی یاد رکھیے۔
یہ بھی پڑھیں: صارفین کے بعد شوبز انڈسٹری سے بھی دانش تیمور پر تنقید
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں رمضان ٹرانسمیشن کے دوران، دانش تیمور نے چار شادیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’مجھے چار شادیوں کی اجازت ہے لیکن میں کر نہیں رہا، وہ الگ بات ہے۔ یہ میرا پیار اور احترام ہے کہ میں فی الحال انھی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں‘۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کی طرف سے استعمال کیے گئے لفظ ’فی الحال‘ پر خاصی تنقید کی جس پر انہوں نے پہلے بھی وضاحت پیش کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سب لوگ یہ لفظ ’فی الحال‘ استعمال کیا کریں کیونکہ مجھے یہ نہیں پتہ میں کل زندہ ہوں یا نہیں۔ ہو سکتا ہے ایک سیکنڈ کے بعد مر جاؤں‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
4 شادیاں اسلام دانش تیمور عائزہ خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 4 شادیاں اسلام دانش تیمور دانش تیمور نے فی الحال کا کہنا نہیں ہے ا پ لوگ تھا کہ
پڑھیں:
سندھ حکومت کا سرکاری ترجمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کا مسودہ حتمی مراحل میں ہے اور اسے منظوری کے لیے جلد سندھ کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد قانون سازی کا باقاعدہ عمل شروع کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ حکومت نے سرکاری ترجمانوں کی تقرری، اختیارات، ذمہ داریوں، تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کے لیے نیا قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق "سندھ ترجمان تقرری، اختیارات، فرائض، تنخواہیں، الاؤنسز اور مراعات ایکٹ" لانے کی تجویز زیر غور ہے، جسے جلد سندھ کابینہ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ قانون کے تحت سرکاری ترجمانوں کی تقرری، فرائض، اختیارات اور مراعات کے تعین کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک وضع کیا جائے گا، تاکہ حکومتی ترجمانوں کے کردار کو باضابطہ قانونی تحفظ اور انتظامی حیثیت حاصل ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ حکومتی ترجمانوں کی تنخواہیں، الاؤنسز اور دیگر مراعات وزیراعلیٰ سندھ کے معاونینِ خصوصی کے مساوی مقرر کی جائیں، جبکہ ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا بھی واضح تعین کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس وقت سندھ حکومت کے رولز آف بزنس میں سرکاری ترجمانوں کا باقاعدہ ذکر موجود نہیں، تاہم وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے مختلف ادوار میں حکومتی ترجمان مقرر کیے تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق جولائی 2024ء میں چھ جبکہ جنوری 2025ء میں مزید آٹھ حکومتی ترجمان تعینات کیے گئے تھے۔
موجودہ ترجمانوں میں سندھ اسمبلی کے چار ارکان، دو میئرز اور دیگر غیر منتخب شخصیات شامل ہیں، جو مختلف حکومتی امور پر مؤقف پیش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کا مسودہ حتمی مراحل میں ہے اور اسے منظوری کے لیے جلد سندھ کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد قانون سازی کا باقاعدہ عمل شروع کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔