قومی اسمبلی؛ وفاقی وزرا کی عدم شرکت پر ڈپٹی سپیکر برہم، اجلاس احتجاجاً ملتوی کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزرا کی ایوان میں عدم شرکت پر ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ برہم ہوگئے اور ایوان چلانے سے انکار کردیا۔
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے وفاقی وزراء کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ایوان کے امور چلانے میں عدم تعاون پر افسوس کا اظہار کیا۔
ڈپٹی سپیکر کی جانب سے یہ فیصلہ ایوان کے احترام کی خاطر کیا گیا ہے اور وفاقی وزراء کی غیر موجودگی نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالا۔
ڈپٹی سپیکر غلام مصطفٰی شاہ نے اجلاس کو احتجاجاً کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔
ہم اصل تیاری ایشیا کپ اور ورلڈکپ کی کر رہے ہیں،عاقب جاوید کا کیویز سےٹی 20میں شکست کے بعد اہم بیان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈپٹی سپیکر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔