کراچی(نیوز ڈیسک)سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سولر کی بجلی 22 روپے میں مہنگی لگ رہی ہے، کیا 60 روپے فی یونٹ بجلی سستی ہے؟ جہاں جہاں سے بھٹو نکلتا ہے، وہاں سولر لگے گا۔ اگر آپ چاہتے ہیں عوام بجلی خریدیں تو نرخ کم کریں۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ و عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم خود عوام کو سولر سسٹم لگانے کی ترغیب دیتے تھے، لیکن اب حکومت عوام کے گھروں میں سولر سسٹم لگانے کو ناپسندیدہ سمجھ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عوام قرض لے کر گھروں میں سولر سسٹم لگا رہے ہیں اور اب حکومت انہیں ٹیکس لگا کر مزید مشکلات میں مبتلا کر رہی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عوام 22 روپے کی بجلی کو مہنگا سمجھتے ہیں لیکن 60 روپے کی بجلی کو مہنگا نہیں سمجھا جا رہا۔ لوگ گھروں میں مفت نہیں سولر سے بجلی لے رہے ہیں، اگر حکومت چاہتی ہے کہ عوام بجلی خریدیں تو اس کو سستا کرے۔

رہنما عوام پاکستان پارٹی نے مزید کہا کہ جہاں جہاں سے بھٹو نکلتا تھا وہاں وہاں پرسولرلگے گا، 3 لاکھ افراد پر حکومتی نااہلی کی وجہ سے بوجھ پڑ رہا ہے، بجلی چوری اوربل ریکوری میں ناکامی ان کو بوجھ نظرنہیں آرہا۔
مزیدپڑھیں:بھارتی کرکٹ بورڈ نے ’تھوک‘ پر سے پابندی اٹھا لی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کی بجلی کہا کہ رہی ہے

پڑھیں:

24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

علامتی فوٹو

حکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلی

علم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی