پی ٹی آئی کی مینار پاکستان جلسے کی درخواست پر ڈی سی لاہور سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کی درخواست پر ہدایت کی کہ کل تک ڈپٹی کمشنر لاہور بھی تحریری جواب جمع کرائیں، بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی جلسے کی درخواست پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی 22 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو کل تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق بندیال نے راہنما تحریک انصاف اکمل باری کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے جواب جمع کیوں نہیں کرایا جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنر کے جواب کی ضرورت نہیں ہے، دیگر فریقین کے جواب آ گئے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ کل تک ڈپٹی کمشنر لاہور بھی تحریری جواب جمع کرائیں، بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی جلسے کی درخواست پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کی درخواست پر جواب جمع جلسے کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔