مفتاح اسماعیل نے غلط اعداد و شمار سے گمراہ کرنے کی کوشش کی: اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل نے غلط اعداد و شمار سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ قابل تجدید توانائی کا فروغ حکومت کی ترجیح ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو سولر پینلز کی ترغیب دی۔ نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں تبدیلی کے بعد سولر کی قیمتیں کم ہوئیں۔ سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی سے 4000 میگاواٹ سے زائد بجلی سسٹم میں داخل ہو چکی ہے۔ اگلے 8 برس میں سولر نیٹ میٹرنگ کی تعداد 12 ہزار میگاواٹ سے بڑھ جائے گی۔ سولر نیٹ میٹرنگ کے مستقبل کے صارفین 3 سے 4 سال میں سرمایہ کاری کی رقم پوری کریں گے۔ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدے پرانے نرخوں کے مطابق رہیں گے۔ دنیا کے کئی ممالک میں نیٹ میٹرنگ کی قیمت ایڈجسٹ کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔