Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:47:16 GMT

گنڈا پور دہشت گردی کیخلاف آپریشن کے مخالف کیوں ؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT

گنڈا پور دہشت گردی کیخلاف آپریشن کے مخالف کیوں ؟

اسلام آباد (طارق محمود سمیر )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر دی ہے جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اچھے تعلقات ہیں ، اعتماد کا فقدان ہے جس دن یہ اعتماد کا فقدان ختم ہو گیا عمران خان جیل سے باہر آجائیں گے ، 9مئی کو
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی اور فوجی تنصیبات پر احتجاج کیا وہ غیر مسلح تھے ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدامات نہیں چلائے جانے چاہئیں ۔ وزیراعلیٰ گنڈا پور جو قومی سلامتی کی میٹنگ میں بھی شریک ہوئے تھے اور وہاں انہوں نے وفاقی حکومت سے اپنے گلے شکوے بھی کئے اور اپنے پارٹی لیڈر کی رہائی اور تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا معاملہ ان کیمرہ میٹنگ میں نہیں اٹھایا ۔ اس میٹنگ میں آرمی چیف اور دیگر عسکری اعلیٰ حکام بھی موجود تھے لیکن ایک دن بعد ٹی وی پر آکر کچھ ایسے باتیں کی ہیں جن سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ کیا کوئی خیبر پختونخوا میں فوج گرینڈ آپریشن کرنے جارہی ہے ، حالانکہ ان کیمرہ اجلاس کا جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا اس میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی تاہم اتنا ضرور کہا گیا تھا کہ دہشتگردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور ہر آپشن استعمال کیا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ساڑھے نو ہزار سے لیکر گیارہ ہزار تک جنگجو موجود ہیں ، افغان بارڈر پر باڑ توڑنے کے باعث مزید دہشتگرد آتے جاتے رہتے ہیں ۔ایک طرف وہ صوبے میں خراب حالات کی بات بھی کرتے ہیں اور یہ بھی بات کہتے ہیں کہ افغانستان سے دہشتگرد آرہے ہیں اور دوسری طرف دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت اور افواج کے ساتھ یکسوئی کے ساتھ تعاون کرنے سے کیوں گریز کررہے ہیں ۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پاکستان میں واپس لانے کی منظوری عمران خان نے دی تھی اب وہ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ وہ بے اختیار تھے اور سارے فیصلے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائر قمر جاوید باجوہ نے کئے تھے ۔ علی امین گنڈا پور کو چاہئے کہ وہ صوبائی وزیراعلیٰ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، سی ٹی ڈی اور پولیس کو مضبوط بنائیں ۔ جہاں تک ان کا یہ دعویٰ کہ ان کے آرمی چیف کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں تو یہ خوش آئند بات ہے مگر کیا وہ اپنے لیڈر عمران خان کو جیل میں جاکر یہ مشورہ نہیں دے سکتے کہ امریکہ اوربرطانیہ میں بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور بعض یو ٹیوبرز سوشل میڈیا پر آرمی چیف اور مسلح افواج کے خلاف جعلی اور بے بنیاد پراپیگنڈا کرتے ہیں جس سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں ، جہاں تک وہ یہ کہتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان ہے ،ایک طرف آپ اعتماد کی بحالی چاہتے ہیں اور دوسری طرف مسلح افواج کے خلاف پراپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے تو ایک وقت میں دونوں باتیں نہیں ہو سکتیں ۔گنڈا پور یہ بھی شکوہ کرتے ہیں کہ جب سے انہیں پارٹی کی صوبائی صدارت سے ہٹایا گیا ہے ان کے خلاف پارٹی کے اندر سے سازشیں کی جارہی ہیں اور بعض لوگوں کو نئے وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ، ان کی یہ بات بھی ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات مثالی نہیں ہیںاور گنڈا پور کو ہٹانے کا جو نہی کوئی موقع بنا تو عمران خان ایسا کر گزرنے کی کوشش کریں گے اسی لئے گنڈا پور بہت طریقے سے اپنی پارٹی قیادت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کے آرمی چیف کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ، لہذا انہیں عہدے سے ہٹانے کے بارے میں کوئی سوچے بھی نہ ۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی گنڈا پور آرمی چیف کرتے ہیں کے خلاف کے ساتھ ہیں اور ہیں کہ

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد