دہشتگردی کے بہانے آپریشن کی راہ ہموار کیا جا رہا ہے، جمعیت نظریاتی
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
اپنے بیان میں جمعیت نظریاتی کے رہنماؤں نے کہا کہ حکمران دہشتگردی کا بہانہ بنا کر آپریشن کیلئے راہ ہموار کرنیکی کوشش کر رہے ہیں اور عدم استحکام آپریشن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت نظریاتی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمودالحسن قاسمی نے کہا ہے کہ حکمران دہشت گردی کا بہانہ بنا کر آپریشن کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عدم استحکام آپریشن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں۔ ماضی میں بھی متعدد آپریشنز کئے گئے۔ جس سے امن کی بجائے تباہی آئی۔ انہوں نے کہا کہ بیس سال سے ملک طاقت کے استعمال اور غلط فیصلوں کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں ہے۔ جتنے بھی آپریشن کئے جائیں بلوچستان کے حالات طاقت کے استعمال سے درست نہیں ہوسکتے۔ جب تک عوام کو وسائل پر اختیار نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بھی بات چیت کے ذریعے ہی ختم ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔