پاکستان میں عیدالفطر 31 مارچ کو ہونے کے قوی امکانات
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
---فائل فوٹو
پاکستان میں عیدالفطر 31 مارچ کو ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں، ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند کی پیدائش رواں ماہ کی 29 تاریخ کو ہو گی۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق سعودی عرب میں 29 مارچ کو چاند نظر آنے کے امکانات نہیں، پاکستان اور سعودی عرب میں اس سال عید الفطر ایک ہی روز 31 مارچ کو ہونے کے امکانات ہیں۔
عید الفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کردی گئی۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق 30 مارچ کو دنیا کے اکثر حصوں میں چاند انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکے گا، 30 مارچ کو چاند ان علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جہاں موسم صاف ہو گا۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ 30 مارچ کو مکہ میں چاند کی عمر 28 گھنٹے 38 منٹ جبکہ کراچی میں 26 گھنٹے 50 منٹ ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مارچ کو
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔