تونسہ، رواں ماہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا پانچواں حملہ ناکام
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
آر پی او ڈی جی خان کے مطابق 10 سے 12 دہشت گرد راکٹ لانچرز اور جدید اسلحہ سے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ آور ہوئے جس کے بعد پولیس کی جوابی کارروائی سے دہشت گرد فرار ہوگئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تونسہ میں لکھانی چیک پوسٹ پنجاب، کے پی سرحدی علاقے پر واقع ہے اور رواں مہینے میں یہ پانچواں حملہ تھا جسے ناکام بنادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پولیس نے تونسہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔ آر پی او سجاد حسن خان کے مطابق 10 سے 12 دہشت گرد راکٹ لانچرز اور جدید اسلحہ سے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ آور ہوئے جس کے بعد پولیس کی جوابی کارروائی سے دہشت گرد فرار ہوگئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تونسہ میں لکھانی چیک پوسٹ پنجاب، کے پی سرحدی علاقے پر واقع ہے اور رواں مہینے میں یہ پانچواں حملہ تھا جسے ناکام بنادیا گیا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے تونسہ میں پولیس چیک پوسٹ پر خوارجی دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پولیس کو شاباش دی۔
محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پولیس نے بہادری کےساتھ خوارجی دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور حملہ پسپا کیا، خوارجی دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پولیس ٹیم کی تحسین کرتے ہیں، ڈیرہ غازی خان پولیس کے بہادر سپوتوں نے پہلے بھی دلیری کے ساتھ خوارجی دہشتگردوں کے حملوں کو پسپا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس نے انتہائی پروفیشنل انداز میں خوارجی دہشتگردوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا اور مذموم عزائم کو ناکام بنایا، فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے والی پولیس کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں، پنجاب پولیس کے بہادر اور پروفیشنل سپوتوں پر فخر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس چیک پوسٹ پر خوارجی دہشتگردوں حملہ ناکام
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔