کانگریس رکن پارلیمنٹ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلمیں جو تفریح اور دل بہلانے کا ذریعہ ہوا کرتی تھیں، اب نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔ اسالام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین اور رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اپنی رہائش پر منعقد ایک افطار پارٹی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک کے موجودہ حالات تشویشناک ہے، لیکن جلد ہی نفرت پر محبت کی فتح ہوگی۔ عمران پرتاپ گڑھی نے مہاراشٹر کے ناگپور میں ہونے والے حالیہ فرقہ وارانہ فساد کے پس منظر میں کہا کہ وہاں کے لیڈر، وزراء کس طرح کے بیانات دے رہے تھے، یہ سبھی کو معلوم ہے۔ بے گناہوں کو گرفتار کرنے سے بہتر ہے کہ خاطیوں کو سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ پہلے سے ہی اشتعال انگیز بیانات دیے جا رہے تھے، اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور معاملے کو بگڑنے دیا گیا۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ وزراء اور لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کا معاملہ وہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے اور بی جے پی کے صدر سے پوچھیں گے کہ کیا آپ یا دیگر لیڈران اپنے گھر میں ایسے بیانات سن سکتے ہیں، یا مہذب سماج اسے سن سکتا ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نفرت کا کاروبار ہے جو بہت دنوں تک نہیں چلے گا بالآخر پیار، امن اور محبت  کی دکان ضرور کھلے گی اور لوگ آپس میں بھائی چارے کے ساتھ رہیں گے، گنگا جمنی تہذیب کا بول بالا ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلمیں جو تفریح اور دل بہلانے کا ذریعہ ہوا کرتی تھیں، اب نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔ ایک خاص طبقہ اسے نفرت پھیلانے کے لئے "ٹول کٹ" کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس سلسلے میں سوچنا ہوگا کہ فلم کو تفریح کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا نفرت پھیلانے کا ذریعہ۔

اس موقع پر کانگریس کے نیشنل میڈیا کوآرڈینیٹر اور میڈیا افطار کے منتظم سید عدنان اشرف نے کہا کہ میڈیا والوں کے ساتھ افطار سے ایک الگ طرح کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ بہت سارے مسائل زیر بحث آ جاتے ہیں، جو عام طور پر سامنے نہیں آ پاتے۔ اس درمیان انہوں نے وقف ترمیمی بل سے متعلق اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں ہماری پارٹی پوری طرح مسلمانوں کے ساتھ ہے اور ہر سطح پر اس بل کی مخالفت کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نفرت پھیلانے ہوئے کہا کہ انہوں نے کا ذریعہ کے ساتھ

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان