پنجاب خیبرپختونخوا بارڈر پر خوارجی دہشت گردوں کا ساتواں حملہ ناکام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : پنجاب خیبرپختونخوا بارڈر پر خوارجی دہشت گردوں کا رواں ماہ کا ساتواں حملہ ناکام بنادیا گیا۔
سرحدی علاقوں میں پولیس، سی ٹی ڈی اور ایلیٹ ٹیمیں پٹرول اور سرچنگ آپریشن پر مامور تھیں۔ کوٹ مبارک کے قریب خوارجی دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس ٹیموں نے ایڈوانس کیا، اسی دوران کوٹ مبارک کے قریب گھات لگائے دہشتگردوں نے پولیس ٹیموں پر آئی سی ڈی (IED) سے حملہ کیا۔
پنجاب؛ سرکاری گندم کا نرخ 2900 روپے فی من مقرر
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق حملے میں بکتر بند گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا، تمام جوان الحمدللہ محفوظ رہے، گھات لگائے دہشت گردوں اور پولیس ٹیموں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جوانوں کی فوری اور بھرپور جوابی فائرنگ سے خوارجی دہشت گرد پسپا ہوگئے۔ اسی دوران ڈی پی او سید علی کی ذیر کمانڈ کیو آر ٹیمیں بھی فوری موقع پر پہنچ گئیں ۔
ڈی پی او سید علی کا کہنا ہےکہ علاقے کا مکمل گھیراؤ کر کے پولیس ٹیموں کا سرچ آپریشن جاری ہے، سرحدی علاقے میں سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
عوام کیلئے اہم اقدام، عیدالفطر پر ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ
آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے کہا کہ پنجاب پولیس خوارجی دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا ک تمام وسائل بروئے کار لاکر اپنے شہریوں کا تحفظ کریں گے۔
آئی جی پنجاب کی جانب سے دہشت گردوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، دہشتگردوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے، پنجاب پولیس ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے گی۔
بانی کی رہائی؛ رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کو عید سے پہلے خوشخبری سنا دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خوارجی دہشت پولیس ٹیموں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔