شہید ذوالفقار علی بھٹو کو نشانِ پاکستان کا اعزاز ملنا ان کی ملک کے لئے گرانقدر خدمات کا اعتراف ہے ؛ بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
عاجز جمالی : پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شہید ذوالفقار علی بھٹو کو نشان پاکستان کا اعزاز ملنے کو سراہتے ہوئے تاریخ کا اہم سنگ میل قرار دیا
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کو بعد از شہادت اعلی ترین سول اعزاز ملنا تاریخ کا اہم سنگ میل ہے،آئینِ پاکستان کے خالق شہید ذوالفقار علی بھٹو کیلئے نشانِ پاکستان کا اعزاز بھٹوازم کے نظرئیے کی ایک اور فتح ہے، پاکستان کے سابق وزیرخارجہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو نشانِ پاکستان کا اعزاز ملنا ان کی ملک کے لئے گرانقدر خدمات کا اعتراف ہے، قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کا شعور دیا،وقت کے آمر نے فخر ایشیاء شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آواز دبانے کی کوشش کی مگر وہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے راج کررہے ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی بھٹوازم کی پیروکار ہے اور اپنے شہید بانی کے مشن پر ہمیشہ کاربند رہے گی،
قلات ؛ 24 گھنٹے بعد موبائل نیٹ سروس بحال
واضح رہے آج یوم پاکستان کی تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے شہید ذولفقار علی بھٹو کو نشان پاکستان کے اعزاز سے نوازا جو سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کی بیٹی اور بے نظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو نے وصول کیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کا اعزاز علی بھٹو کو نشان بھٹو کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔