زمرک خان اچکزئی نے فرح عظیم شاہ کیخلاف تحریک استحقاق بلوچستان اسمبلی میں جمع کرادی
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر زمرک خان اچکزئی نے رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ کی جانب سے صوبے کی موجودہ کشیدہ حالات کی وجہ سیاستدان کو قرار دینے کے معاملے پر بلوچستان اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرادی۔
فرح عظیم شاہ کی جانب سے صوبے کی موجودہ کشیدہ حالات کی وجہ سیاستدان کو قرار دینے کے معاملے پر تحریک استحقاق جمع کراتے ہوئے زمرک خان اچکزئی نے اسپیکر سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ تحریک کمیٹی کے حوالے کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی: بینظیر بھٹو شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد متفقہ منظور
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے بھی زمرک خان کی تحریک استحقاق کی حمایت کردی، اراکین اسمبلی رحمت صالح بلوچ ، علی مدد جتک، محمد خان لہڑی، سردار میر کوہیار ڈومکی، بخت کاکڑ اور خیر جان بلوچ نے بھی استحقاق کی حمایت میں تحریک استحقاق پر دستخط کیے ہیں۔
12 مارچ 2025ء کے اجلاس میں فرح عظیم شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ صوبے کی موجودہ کشیدہ حالات کی وجہ سیاستدان ہیں، انہوں نے بلوچستان کی ترقیاتی اسکیموں کی خریدوفروخت، ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کے لیے 20 کروڑ روپے لینے کا الزام سیاستدانوں پر عائد کیا تھا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کی موجود ہیئت کی تبدیلی کا مقدمہ،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
زمرک خان اچکزئی کے مطابق فرح عظیم شاہ سے 20 مارچ کے اجلاس میں الزامات کی وضاحت طلب کی تھی جو انہوں نے ابھی تک نہیں دی، اسمبلی فرح عظیم شاہ سے اپنی تقریر پر معذرت کرنے کو کہا لیکن انہوں نے وہ بھی گوارا نہیں کی۔
’رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ نے تمام اراکین کا استحقاق مجروح کیا ہے، ان کی جانب سے صوبے کی موجودہ کشیدہ حالات کی وجہ سیاستدان کو قرار دینے کے معاملے کو استحقاق کمیٹی کے حوالے کیا جائے۔‘
مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی بلڈنگ کی تعمیر نو ہائیکورٹ میں چیلنج
واضح رہے کہ 12 مارچ 2025 کے اسمبلی اجلاس میں رکن فرح عظیم شاہ نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ صوبہ میں جو موجودہ کشیدہ حالات ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف سیاستدان ہیں جبکہ بلوچستان کی تر قیاتی اسکیمیں بکتی ہیں، ایک ڈی سی لگتا ہے تو وہ 20 کروڑ رو پے دیتا ہے، ان سب کے ذمہ دار سیاستدان ہیں، وہ لوگ ہیں جو آج اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔
’آپ سب کی ترقی ہو رہی ہے ایک گاڑی سے10 گاڑیاں بن رہی ہیں, ایک بنگلے سے 10 بنگلے بن رہے ہیں, آپ سب کے بچے باہر ملکوں میں پڑھ رہے ہیں، آپ کے علاقے اتنی غربت کا شکار کیوں ہیں، یہ سب کچھ سیاستدانوں کی وجہ سے ہیں ان کے پیٹ ہی نہیں بھرتے جناب اسپیکر اتنی کرپشن کرتے ہیں یہ لوگ۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استحقاق کمیٹی بلوچستان اسمبلی ڈپٹی کمشنر رکن اسمبلی زمرک خان اچکزئی عوامی نیشنل پارٹی فرح عظیم شاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استحقاق کمیٹی بلوچستان اسمبلی ڈپٹی کمشنر رکن اسمبلی زمرک خان اچکزئی عوامی نیشنل پارٹی فرح عظیم شاہ صوبے کی موجودہ کشیدہ حالات کی وجہ سیاستدان بلوچستان اسمبلی زمرک خان اچکزئی تحریک استحقاق فرح عظیم شاہ اسمبلی میں
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔