کویت میں براہِ راست نشر ہونے والے ریفل فراڈ کا نیٹ ورک بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
کویت سٹی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مارچ 2025ء ) کویتی حکام نے متنازعہ یا ہالہ ریفل فراڈ میں ملوث لوگوں کے ایک نیٹ ورک کو پکڑلیا جسے انٹرنیٹ پر براہ راست نشر کیا گیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق قرعہ اندازی کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریفل کے بارے میں تحقیقات شروع کی گئیں جس سے پتا چلا کہ اس قرعہ اندازی میں دھوکہ دہی چل رہی ہے، ویڈیو میں بظاہر اس شخص کو دکھایا گیا جس نے پہلے اپنی آستین میں کارڈ چھپا رکھا ہوتا ہے جس کو وہ قرعہ اندازی میں شامل افراد کی انٹریز میں کچھ دیر ہاتھ مارنے کے بعد بڑی مہارت سے اپنی آستین سے باہر نکال کر اس پر نام تحریر کررہا ہے۔
حکام کو تحقیقات سے پتا چلا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے فرد کویتی وزارت تجارت میں ریفل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ احمد الحمد نے کئی کمپنیوں کے زیر اہتمام متعدد ریفلز میں دھاندلی کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا، ریفل کی دھاندلی سے جیتنے والی مصری خاتون کو بعد ازاں اس کے شوہر کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا جس نے پہلے ریفلز میں دھوکہ دہی سے مجموعی طور پر 7 کاریں جیتی تھیں جن میں سے اس نے دو گاڑیاں اہلکار کو تحفے میں دیں، انہیں کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے بتایا کہ اس فراڈ کی مرکزی ملزم ایک مصری خاتون ہے جسے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے مبینہ طور پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی، اس کیس نے عوام اور میڈیا کی توجہ مبذول کرائی، اس میں وزارت تجارت کا ایک ملازم اور خاتون کا شوہر بھی شامل ہے، دونوں کو حراست میں لے لیا گیا، خاتون نے اس فراڈ کے لیے اپنے نام میں ردوبدل کیا اور بار بار ریفل ڈرا میں شامل ہوئی۔ کویتی حکام کو شبہ ہے کہ دھوکہ دہی کا یہ سلسلہ سوچ سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہے اور یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے، اس فراڈ میں متعدد قومیتوں کے افراد شامل ہیں، جن میں مصری، ہندوستانی، ایشیائی اور کویتی شہری شامل ہیں، تفتیش کار اب مشتبہ افراد کے درمیان رابطے کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے باضابطہ اجازت طلب کر رہے ہیں تاکہ اس حوالے پھیلے ہوئے نیٹ ورک کو مکمل طور پر سامنے لایا جائے، کیس کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے جو دھوکہ دہی، جعلسازی، منی لانڈرنگ اور کویت کے اقتصادی نظام کے لیے نقصان دہ سمجھے جانے والے اقدامات کے الزامات کی پیروی کر رہا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دھوکہ دہی کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر