کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر ملیں گے: آئی ایم ایف ڈائریکٹر
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر ملیں گے: آئی ایم ایف ڈائریکٹر WhatsAppFacebookTwitter 0 28 March, 2025 سب نیوز
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کا کہنا ہے کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔
جولی کوزیک کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا پاکستان کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام اور کلائمیٹ فنانسنگ پر الگ الگ فنڈز کی فراہمی پر بات چیت ہوئی۔
ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا کہنا تھا پاکستان کے ساتھ کلائمیٹ فنانسنگ پر بات چیت کامیاب رہی، کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت پاکستان کو 1.
جولی کوزیک نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ 37 ماہ کا ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسی لیٹی پروگرام ستمبر میں طے ہو چکا ہے، پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام میں 7 ارب ڈالر اقساط میں ملنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا پاکستان کے لیے نئی قسطوں کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ 25 مارچ کو ہوا، پاکستان ای ایف ایف پروگرام کے پہلے جائزہ اجلاس میں کامیاب رہا، کامیاب جائزہ مذاکرات کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر ملیں گے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان جائزہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔