ملک میں پانی کی شدید قلت: صرف پینے کا ذخیرہ بچ گیا، خریف کی فصل خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان خریف کی فصلوں کے موسم کی تیاری کر رہا ہے پانی کی غیر معمولی قلت نے حکام اس بات پر مجبور ہوچکے ہیں کہ اپریل میں پانی کی فراہمی صرف پینے کے مقصد تک محدود رکھی جائے۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی ایڈوائزری کمیٹی کا بدھ کو اجلاس ہوا جس میں مزید الاٹمنٹ کرنے سے قبل مئی میں صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں خشک سالی کے خدشات: ’چنے کی تقریباً آدھی فصل کو نقصان پہنچ چکا ہے‘
حکام نے خبردار کیا ہے کہ ڈیم خشک ہو رہے ہیں، دریاؤں کا بہاؤ کم ہو رہا ہے اور پہاڑوں پر برف کے ناکافی ذخائر موجود ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیموں میں پانی نہیں ہے، دریاؤں کا بہاؤ کم ہو گیا ہے اور پہاڑوں پر برف کے کم ذخائر بہتر بہاؤ نہیں کر پا رہے۔ رم اسٹیشنوں پر پانی کا شارٹ فال 51 فیصد ہے جو صوبائی کینال ہیڈز پر 60 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔
ارسا عام طور پر موسم کے لیے 3 مرحلوں میں پانی مختص کرتی ہے۔ آب و ہوا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے اب اتھارٹی ہر مہینے جائزہ لیتی ہے۔ اپریل کے لیے کمیٹی نے 43 فیصد سسٹم شارٹ فال کی منظوری دی جس میں مزید کمی کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارش اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا۔ دریائے سندھ اور جہلم میں برفباری معمول سے 31 فیصد کم رہی جس کی وجہ سے دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
مزید پڑھیے: 62 فیصد تک معمول سے کم بارشیں، ملک میں خشک سالی کا الرٹ جاری
پنجاب اور سندھ نے ایک ماہ کے لیے پانی کی تقسیم پر اتفاق کیا ہے تاہم سندھ نے 3 سطحی پانی کی تقسیم کے فارمولے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
سندھ نے مطالبہ کیا کہ آبی معاہدے کے پیرا 2 کے تحت پانی کے حصص کا حساب لگایا جائے جس کے نتیجے میں اپریل میں پانی کی قلت 55 فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔
پانی کا بحران ایک نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب خریف کی فصل کا موسم جو اپریل سے ستمبر تک پھیلا ہوا ہے شروع ہونے والا ہے۔ چاول، گنا، کپاس، مکئی اور ماش جیسی اہم فصلیں خطرے میں ہیں۔
آبپاشی کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو زراعت پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
فصلیں متاثرواضح رہے کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے بالائی علاقوں میں برفباری بھی معمول سے کم ہوئی ہے۔ اس کے اثرات گندم کی فصل پر آئیں گے کیونکہ برفباری کی وجہ سے پانی ایک بڑی مقدار میں میسر ہوتا تھا۔
مزید پڑھیں: اگلے 4 سے5 روز میں منگلا، تربیلا ڈیمز میں پانی مکمل ختم ہونے کا خدشہ
ہمارے پانی ذخائر، منگلا اور تربیلا پہلے ہی خشک سالی کا شکار ہیں۔ یہی امید ہے کہ ہمیں بس کسی قسم کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بارانی گندم کو تو نقصان ہو ہی رہا ہے لیکن وہ علاقے جہاں گندم کا انحصار ان نہروں پر ہوتا ہے خشک سالی سے وہ بھی متاثر ہوں گے۔
صورتحال کب بہتر ہوسکتی ہے؟ماہرین کی رائے میں یہ صورتحال مئی یا جون میں بہتر ہو سکتی ہے جب گلیشیئرز پگھلیں گے۔
اس سے قطع نظر ابھی صورتحال کافی مشکل ہے کیونکہ گندم کے حوالے سے خطرات کافی بڑھ چکے ہیں بلکہ سرسوں اور چنے کی فصل بھی شدید متاثر ہوگی۔
محکمہ موسمیات نے خشک سالی کا الرٹملک میں 62 فیصد تک معمول سے کم بارشیں ہونے کے باعث محکمہ موسمیات نے حال ہی میں خشک سالی کا الرٹ جاری کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں یکم ستمبر 2024 سے 21 مارچ 2025 تک معمول سے 40 فیصد کم بارشیں ہوئی ہیں۔ سندھ میں معمول سے 62 فیصد کم اور بلوچستان میں معمول سے 52 فیصد کم بارشیں ہوئیں۔
اس دوران پنجاب میں 38 فیصد معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ شرح 35 فیصد ریکارڈ کی گئی، اسی طرح آزاد کشمیر میں معمول سے 29 فیصد کم بارشیں ہوئیں
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں ہونے والی حالیہ بارشوں کی وجہ سے وسطی اور بالائی علاقوں میں کچھ صورت حال میں بہتری آئی ہے مگر سندھ اور بلوچستان کے جنوبی حصوں اور پنجاب کے مشرقی میدانی علاقوں میں بدستور خشک سالی ہے۔
اس وقت منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ رواں برس مارچ میں جنوبی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا حالیہ بارشوں سے پانی کی قلت کا خطرہ ٹل گیا؟
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کچھ جنوبی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں مسلسل خشک دنوں کی تعداد 200 سے بڑھ چکی ہے اور متاثرہ علاقوں میں صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارسا خریف کی فصل متاثر قلت آب ملک میں پانی کی قلت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خریف کی فصل متاثر قلت ا ب ملک میں پانی کی قلت کم بارشیں ہوئی محکمہ موسمیات میں معمول سے خشک سالی کا میں پانی کی خریف کی فصل معمول سے کم علاقوں میں کی وجہ سے ملک میں فیصد کم کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS
— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندیعالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک