سعودی ایوان شاہی کے پہلے قانون دان ڈاکٹر مطلب النفیسہ انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
جدہ (نیوزڈیسک)سعودی عرب کے پہلے قانون دان ڈاکٹر مطلب النفیسہ انتقال کر گئے۔ایوان شاہی کے مطابق ڈاکٹر مطلب النفیسہ کی نمازِ جنازہ جمعے کو بعد نماز عصر دارالحکومت ریاض کی شاہ خالد مسجد میں ادا کی گئی۔
ڈاکٹر مطلب کو سعودی کابینہ میں قانونی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔انہوں نے کئی سرکاری عہدوں پر بھی کام کیا جن میں وہ بطور وزیرِ مملکت اور کابینہ کے رکن بھی شامل رہے۔ڈاکٹر مطلب النفیسہ 1937ء میں القصیم صوبے میں پیدا ہوئے ۔
1962ء میں انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے قانون میں گریجویشن مکمل کی اور اس کے بعد انہیں اسکالر شپ پر امریکا بھیج دیا گیا تھا جہاں انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔عرب میڈیا کے مطابق وہ 1971ء سے 1975ء تک امریکا میں زیر تعلیم رہے۔
کوئٹہ میں حالات کشیدہ ، موبائل ڈیٹا انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مطلب النفیسہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔