اسرائیل کے حملوں میں اضافہ، مزید 21 فلسطینی شہید، غزہ میں آٹے کا بھی بحران
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
وسطی اور جنوبی غزہ میں بدھ کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 21 شہید ہو چکے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ: عید کے موقعے پر اسرائیلی بمباری، 5 بچوں سمیت 8 افراد شہید
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم 12 فلسطینی شہید ہوگئے۔
شمال مشرقی علاقے رفح میں اسرائیلی حملے میں 2 افراد شہید ہو گئے تھے جہاں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ بڑے علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر حملے کر رہی ہے۔
دریں اثنا اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے ساتھ ہی تباہ حال علاقے کو ایک بار پھر غذائی مواد بالخصوص آٹے کی قلت کے بڑے بحران کا سامنا ہے۔
بیکری مالکان کی ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز غزہ کی پٹی کے وسطی علاقوں کی تمام بیکریوں نے کام روک دیا تھا۔
جس کی وجہ ایندھن، گیس اور آٹے کا ختم ہو جانا ہے۔ اس طرح اہل غزہ کے بیچ قحط کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل کا یہ کہنا کہ غزہ میں غذائی ذخیرہ طویل عرصے کے لیے کافی ہے جو کہ یہ ایک بے ہودہ دعویٰ ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوژارک نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اہم انسانی گزر گاہوں کے راستے آنے والی اقوام متحدہ کی ترسیل کے خاتمے پر ہیں۔
مزید پڑھیے: غزہ: اسرائیل کی بمباری سے 3 دنوں میں 200 بچوں سمیت 500 سے زائد فلسطینی شہید
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی خوراک پروگرام نے اپنی بیکریاں تفریح کے لیے بند نہیں کی ہیں۔ انہون نے م زید کہا کہ اگر آٹا نہیں ہو گا اور پکانے کے لیے گیس نہیں ہو گی تو پھر بیکریاں کھلی رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔
عالمی خوراک پروگرام نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کے سہارے چلنے والی تمام 25 بیکریاں ایندھن اور آٹے کی قلت کے سبب بند کر دی گئی ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ روز فلسطینی امور سے متعلق اسرائیلی کمیٹی نے کہا تھا کہ اگر حماس شہریوں کو حاصل کرنے کی اجازت دے تو غزہ کی پٹی میں طویل عرصے تک کافی ہونے والی خوراک موجود ہے۔
7 اکتوبر 2023 غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے خوراک کی تقسیم کے مراکز کے سامنے طویل قطاریں اور امدادی ٹرکوں کی جانب ہجوم کا لپکنا، 20 لاکھ کی آبادی والی غزہ کی پٹی میں معمول کا منظر بن گیا۔
مزید پڑھیں: غزہ: اسرائیلی پابندی کے باعث اشیائے ضررویہ کی قلت
ادھر اقوام متحدہ کی ایجنسیاں ایک سے زیادہ بار خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ کی پٹی میں کئی علاقوں میں قحط کا خطرہ منڈلانا شروع ہو گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غزہ غزہ میں آٹے کا بحران غزہ میں خوراک کی قلت مزید شہادتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: غزہ میں ا ٹے کا بحران غزہ میں خوراک کی قلت مزید شہادتیں غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے لیے کی قلت
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔