بی وائی ایم سی کی توڑ پھوڑ، بینک لوٹنے کی کوشش پر لاٹھی چارج کیا گیا، سی ٹی ڈی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
کوئٹہ:
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کوئٹہ اعتزاز گورایہ نے بلوچ یک جہتی کونسل (بی وائی سی) پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے حوالے سے کہا ہے کہ جب ان کی جانب سے توڑ پھوڑ کی گئی، املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور بینک لوٹنے کی کوشش کی گئی تو کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایہ نے ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد کے ساتھ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے میں ہلاک ہوئے افراد کی لاشیں وصول کرنے کا پہلا حق ورثا کا ہے، بی ایل اے دہشت گردوں کو ہیرو بنانے میں مصروف ہے جبکہ بلوچ یکجہتی کونسل (بی وائی سی) لاشیں وصول کرنے کے لیے پرامن احتجاج کے نام پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں پانچ خودکش حملے آور موجود تھے جنہوں نے لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا، ان پانچ کی لاشیں سول اسپتال لائی گئیں اور نادرا کے ذریعے ان کی شناخت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ لاشیں وصول کرنے کا حق ورثا کا ہوتا ہے، 14 فروری کو پانچ لاشیں سول لائی گئیں، 19 تاریخ کو وزیراعظم کوئٹہ آئے، بی وائی سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) کے چند لوگ ان باڈیز کو لینے آئے جس پر قانونی جواب دیا گیا کہ ان کے ورثا کو لائیں اور باڈیز لے جائیں، ان لوگوں نے کہا کہ ہم ہی ان کے وارث ہیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ نے کہا کہ بی ایل اے کا وارث کون ہے؟ جواب میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں، یہ ان دہشت گردوں کی باڈیز ہیں جنہیں بی ایل اے نے خود اپنے فدائین کہا، بعدازاں زبردستی وہاں سے باڈیز اٹھانے کی کوشش کی گئی جس پر بی وائس سی نے دھرنے اور جلسے کا اعلان کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا مگر 36 سے زائد سیف سٹی کیمرے توڑے گئے، 18 سے زائد پول توڑے گئے، کئی سو میٹر آپٹک فائبر جلادی گئی، یونیورسٹی کا دروازہ توڑا گیا، پوسٹ آفس جلا دیا گیا، بینک کا دروازہ توڑ کر کیش لوٹنے کی کوشش کی گئی، جس پر سیکیورٹی اداروں نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا فیصلہ کیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ افطاری کے بعد شام کے ساڑھے سات بجے پتا چلا کہ دو ڈیڈ باڈیز بی ایم سی میں اور ایک باڈی سول اسپتال میں لائی گئی، یہ نہیں پتا کہ وہ پولیس فائرنگ سے مرے یا کسی اور کی گولی تھی، آئی جی نے اعلان کیا کہ پوسٹ مارٹم کیا جائے تاکہ پتا چلے کس کی گولی سے جاں بحق ہوئے، اگر وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے تو ان کی باڈیز اس وقت کیوں نہیں آئیں جب سب کی باڈیز آئی تھیں، پھر 7 بجے یہ باڈیز کہاں سے آگئیں؟ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، پھر لہڑی قبیلے کے چند ورثا آئے جو باڈی لے گئے اور یہ بچہ آئس کریم بیچتا تھا۔
ڈی آئی جی نے کہا کہ بی وائی سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) کے پلیٹ فارم سے دو باڈیز کو لے کر ایک اور دھرنا شروع کر دیا گیا بعدازاں وہ تین ہوگئیں، ایک لہڑی قبیلہ لے گیا، دوسرا قلندارنی تھا جو صحبت پور میں کام کرتا تھا اسی طرح ایک اور لڑکا بھی ہوٹل میں کام کرتا تھا، ان باڈیز کو بی ایل اے نے اون کیا اور اہل خانہ سے حاصل کرنے کی کوششیں کی کہ انہیں ہم اپنے حساب سے دفن کریں گے لیکن سیکیورٹی نے ان لاشوں کو دوبارہ حاصل کرکے اہل خانہ کو دیا۔
اعتزاز احمد گورایہ نے کہا کہ میت وصول کرنے کا پہلا حق ورثا کا ہے، بی ایل اے دہشت گردوں کو ہیرو بنانے میں مصروف ہے، بی وائی سی کے دہشت گردوں نے اپنے احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، ہم یہ حقائق میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں تاکہ انہیں آگاہی ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جی سی ٹی ڈی بی وائی سی گورایہ نے وصول کرنے نے کہا کہ بی ایل اے کی کوشش کی گئی
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔