بانی تحریک انصاف مذاکرات پر رضامند، علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ہدف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی گفتگو، علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ،عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا
ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا، علی امین گنڈاپور نے صوبائی معاملات پر بھی عمران خان کو بریف کیا، ملاقات میں قیادت پر سوشل میڈیا پر جاری تنقید بھی زیر بحث
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کی بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ہونے والی طویل ملاقات کے حوالے سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ اس کا بنیادی محور اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات تھے۔ دونوں کو بانی کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک مل گیا۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈھائی گھنٹے طویل ہونے والی اس ملاقات کا محور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ علی امین اور بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئے ، بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کی پیشکش پر نیم رضامندی ظاہر کی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے صوبائی معاملات پر بھی بانی پی ٹی آئی کو بریف کیا، ملاقات میں قیادت پر سوشل میڈیا پر جاری تنقید بھی زیر بحث آئی۔ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی بات ہوئی، بانی پی ٹی آئی نے علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا۔ذرائع کے مطابق اسٹبلشمنٹ سے مذاکرات میں کسی پیشرفت تک اسے خفیہ رکھنے پر اتفاق ہوا، آئندہ چند روز میں علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی سے ایک اور ملاقات کریں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔