بھارت کی نریندر مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں وقف املاک یعنی مسلمانوں کے مذہبی، تعلیمی اور خیراتی استعمال کے لیے مختص اراضی اور اثاثوں کے انتظام میں ردوبدل کی کوشش کی گئی ہے۔

مجوزہ تبدیلیوں نے حزب اختلاف کے رہنماؤں اور مسلم گروپوں میں تشویش کو جنم دیا ہے، انہیں خدشہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کے املاک پر حقوق کمزور ہو سکتے ہیں۔

وقف (ترمیمی) بل، جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پیش کیا ہے، مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلم نمائندوں کو شامل کرنے کی راہ کھولتا ہے۔ یہ حکومت کو متنازعہ وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیمی بل حکومت کو ایسے اثاثوں پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کا اختیار دے سکتا ہے جو تاریخی طور پر مسلم کمیونٹی کے زیر انتظام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں بھارت میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں حیران کن اضافہ

واضح رہے کہ وقف املاک، جنہیں فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکتا، پورے ہندوستان میں تقریباً 900,000 ایکڑ پر محیط ہیں، جس سے وہ ملک کی سب سے بڑی جدائیدادوں میں شامل ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے بہت سی جائیدادوں کا نظم و نسق خراب ہے، جس سے صرف منتخب اشرافیہ کے مسلم خاندانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بل کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’مسلم نواز اصلاحات‘ قرار دیا جس کا مقصد بدعنوانی کو روکنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم، حزب اختلاف کے رہنما اور اسلامی تنظیمیں اس اقدام کو وقف اثاثوں پر مسلمانوں کی خود مختاری کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ بول دیا، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کمال فاروقی نے سوال کیا کہ آخر ہندو مندر بورڈ کے لیے بھی ایسی ہی ترمیم کیوں تجویز نہیں کی گئی؟

ناقدین اس ترمیم کو ایسے وسیع تر الزامات سے جوڑتے ہیں ، جن کے مطابق مودی سرکار نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلم کمیونٹی کو پسماندہ کر دیا ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ کرنا اور ان کے پرسنل قوانین اور جائیدادوں کے حقوق کو غصب کرنا ہے۔

The Waqf (Amendment) Bill is a weapon aimed at marginalising Muslims and usurping their personal laws and property rights.

This attack on the Constitution by the RSS, BJP and their allies is aimed at Muslims today but sets a precedent to target other communities in the future.…

— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) April 2, 2025

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس، بی جے پی اور ان کے حلیفوں کی طرف سے آئین پر یہ حملہ آج مسلمانوں پر ہوا ہے لیکن مستقبل میں دوسری برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مثال ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس قانون سازی کی سختی سے مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ ہندوستان کے تصور پر حملہ کرتا ہے اور آرٹیکل 25، مذہب کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت راہل گاندھی نریندر مودی وقف ترمیمی بل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت راہل گاندھی کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟