اوپن اے آئی کے جدید ترین امیج جنریٹر ”GPT-4o“ نے مارکیٹنگ کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے ذریعے کاروبار اب بغیر کسی ماڈل، فوٹوگرافر یا گرافک ڈیزائنر کی خدمات حاصل کیے اعلیٰ معیار کے اشتہاری مواد تیار کر سکتے ہیں۔

یہ ٹول گزشتہ ہفتے متعارف کرایا گیا اور محدود تعداد میں مفت دستیاب ہے، جس نے عام صارفین کو اپنی خاندانی تصاویر کو اسٹوڈیو گِبلی اسٹائل کے فن پاروں میں تبدیل کرنے کا موقع دیا۔ تاہم، اشتہاری صنعت پر اس کے اثرات زیادہ نمایاں رہے، جہاں پروڈکٹ پوسٹرز اور ویڈیوز نے ریونیو کا ایک بڑا حصہ تشکیل دیا۔

اب کاروباری حضرات اور پروڈکٹ مالکان بغیر کسی اضافی لاگت یا زیادہ سے زیادہ 20 ڈالر کے ChatGPT Plus سبسکرپشن کے ذریعے اشتہاری مواد بنا سکتے ہیں۔

اس پیش رفت نے تشویش بھی پیدا کر دی ہے کہ ہزاروں ماڈلز، فوٹوگرافروں، ویڈیو ایڈیٹرز اور ڈیزائنرز کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ اے آئی تخلیقی شعبوں میں روایتی ملازمتوں کی جگہ لے رہا ہے۔

اے آئی سے تیار کردہ اشتہارات کی جدت
GPT-4o کی مدد سے صارفین کسی بھی موجودہ پوسٹر میں پروڈکٹ کی تصویر بدل سکتے ہیں اور سادہ انگریزی ہدایات کے ذریعے اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ یہ فیچر بے مثال مستقل مزاجی فراہم کرتا ہے اور اس سے پہلے کے اے آئی ماڈلز میں موجود ٹیکسٹ رینڈرنگ کے مسائل کو بھی حل کرتا ہے۔

کم لاگت اور زیادہ کارکردگی
خاص طور پر چھوٹے کاروبار اب اپنے اشتہاری مواد کو خود تیار کر سکتے ہیں، جس سے مہنگے تخلیقی ماہرین پر انحصار کم ہو جائے گا۔

یہ ٹول انفوگرافکس، پروڈکٹ میک اپس، اور درست ٹیکسٹ پلیسمنٹ کے ساتھ لوگو بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تخلیقی صنعت پر اثرات
GPT-4o جہاں ڈیزائننگ کو عام افراد کے لیے قابلِ رسائی بنا رہا ہے، وہیں یہ تخلیقی پیشوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔

جیسے جیسے اے آئی ترقی کر رہا ہے، مختلف صنعتوں کو اس تیزی سے بدلتے منظرنامے میں خود کو ڈھالنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سکتے ہیں اے ا ئی رہا ہے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی