اسلام آبادہائیکورٹ: وفاقی وصوبائی حکام، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے جیل میں ملاقات نہ کرانے پر سیکرٹری داخلہ، محکمہ داخلہ پنجاب اور سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست جمع کرا دی۔
پی ٹی آئی رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے سلمان اکرم راجا اور شعیب شاہین ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ اس عدالت کے لارجر بینچ نے 24 مارچ کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی درخواستوں پر فیصلہ دیا، جس کے مطابق منگل اور جمعرات کو ملاقات کرانا ضروری ہے لیکن جیل حکام کی جانب سے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری محکمہ داخلہ پنجاب اور سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سمیت دیگر فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اسلام آباد
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔