زیارات کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
انسانی سمگلنگ اور ویزا فراڈ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ چاک ہو گیا۔
ایف آئی اے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل نے محمد عارف نامی ملزم کو گرفتار کر لیا، جو زیارات کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے بٹور کر فرار ہو گیا تھا۔
ملزم نے شہریوں کو عراق کی زیارات پر بھجوانے کے بہانے سے ہر فرد سے 45 لاکھ روپے وصول کیے، لیکن انہیں بیرون ملک نہ بھیج کر رقم ہڑپ کر لی۔ بعد ازاں ملزم خود ایران فرار ہو گیا جسے اسلام آباد ائرپورٹ پر واپسی پر گرفتار کرلیا گیا، جہاں اس کا نام پہلے ہی اسٹاپ لسٹ میں شامل تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزم کو تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ کے خلاف سخت اقدامات کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔