وزیراعظم کی رمضان ریلیف پیکج ماڈل کو دیگر حکومتی اسکیموں میں اپنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وزیراعظم کی رمضان ریلیف پیکج ماڈل کو دیگر حکومتی اسکیموں میں اپنانے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج پر کام کرنے والی ٹیم اور معاون اداروں کی بہترین کارکردگی کی ستائش کی اور ماڈل کو دیگر حکومتی اسکیموں میں اپنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پرائم منسٹر رمضان ریلیف پیکج 2025 کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکج کے لیے کام کرنے والی حکومتی کور ٹیم اور معاون اداروں کی بہترین کارکردگی کی ستائش کی۔
انہوں نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے پہلی بار ڈیجیٹل والٹ متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے نہایت شفاف اور سہل طریقہ کار سے رقوم مستحقین تک پہنچیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان پیکج پورے پاکستان بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے بلاتفریق متعارف کروایا گیا، اس پیکج کو شفاف بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بی آئی ایس پی، پی ٹی اے، نادرا اور دیگر معاون اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ رمضان ریلیف پیکج کے دوران موصول ہونے والی شکایات کو آئندہ لائحہ عمل بناتے ہوئے مدنظر رکھا جائے۔
اجلاس میں رمضان ریلیف پیکج 2025 کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رمضان ریلیف پیکج کی 79 فیصد رقوم انتہائی شفاف طریقے سے مستحقین کو پہنچائی جاچکی ہیں۔
رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے کُل ایک ہزار 273 شکایات موصول ہوئیں جن کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے گئے، رمضان پیکج کے تحت 19 لاکھ ڈیجیٹل ادائیگیاں ہوئیں اور 9 ہزار 51 ہزار 191 ڈیجیٹل والٹ استعمال ہوئے جو کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے ویژن کے تکمیل کی جانب اہم قدم ہے ۔
8 لاکھ 23 ہزار 653 خواتین نے ڈیجیٹل والٹس استعمال کیے جبکہ 2 ہزار 541 خصوصی افراد نے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رقوم وصل کیں جبکہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے رمضان پیکج کی بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رمضان ریلیف پیکج
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔