اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو متوقع طور پر سوموار 7 اپریل کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔

مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ دورہ منصوبہ کے مطابق ہوتا ہے، تو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہوں گے، تاکہ محصولات (ٹیرف) کو ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کی کوشش کی جاسکے۔

مزید پڑھیں: یورپی یونین بلبلا اٹھی، کیا ٹرمپ ٹیرف امریکا کے گلے پڑجائیگا؟

واضح رہے کہ رواں ماہ 3 اپریل کو امریکی صدر نے بھارت پر 26 فیصد، پاکستان پر 29، بنگلہ دیش پر 37، برطانیہ پر 10، یورپ پر 20، چین پر 34، جاپان پر 24، ویت نام پر 46، تائیوان پر 32، جنوبی کوریا پر 25، تھائی لینڈ پر 36، سوئٹزر لینڈ پر 31، انڈونیشیا پر 32، ملائشیا پر 24، کمبوڈیا پر 49، جنوبی افریقہ پر 30، برازیل اور سنگاپور پر 10، اسرائیل اور فلپائن پر 17، چلی اور آسٹریلیا پر 10، ترکیہ پر 10، سری لنکا پر 44 اور کولمبیا پر 10 فیصد جوابی ٹیرف لگایا تھا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف وار: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے اتحادی 30 سال سے مراعات لے رہے ہیں۔ امریکی مصنوعات پر ڈیوٹیز لگانے والوں کو اب جواب ملے گا۔ اب میں آپ کو بتادوں کہ وہ دن گنے جاچکے ہیں، درآمدات پر ٹیرف لگے گا۔ جوابی ٹیرف کا نفاذ امریکا کے لیے اچھا ہوگا۔ امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی میڈیا اسرائیلی وزیراعظم امریکی صدر ٹرمپ بینجمن نیتن یاہو ٹیرف وائٹ ہاؤس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی میڈیا اسرائیلی وزیراعظم امریکی صدر ٹرمپ بینجمن نیتن یاہو ٹیرف وائٹ ہاؤس اسرائیلی وزیراعظم امریکی صدر نیتن یاہو

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان