پی ایس ایل؛ ملتان ابتک نقصان میں ہے، نئی ٹیمیں کیسے فروخت ہوں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں مہنگی ٹیمون کی فروخت سے متعلق سابق چیئرمین پی سی بی نے بھی سوال اٹھادیا۔
کرکٹ پاکستان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کہنا تھا کہ بورڈ لیگ میں اب 2 نئی ٹیمیں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور 2 سے ڈھائی ارب روپے میں ایک ٹیم فروخت کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، کیا اتنی بڑی قیمت پر کوئی ٹیم خریدی جائے گی؟۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان سلطانز اسوقت مہنگی ترین ٹیم ہے اور مسلسل نقصان میں ہے، ایسے میں نئی مہنگی ٹیموں کی فروخت کیسے ممکن ہوگی؟۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل؛ 2 نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا فیصلہ، نام کیا ہوں گے؟
انہوں نے کہا کہ اس سال پی ایس ایل پہلی بار انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ساتھ ہو رہی ہے، پلیئرز ایکوزیشن پر زیادہ اثر نہیں پڑا، مگر پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ خراب کارکردگی کی وجہ سے اسپانسرز ہچکچا رہے ہیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے میڈیا حقوق اور اسپانسرشپ معاہدے پہلے ہی طے ہو چکے ہیں، مگر آگے چل کر یہ معاملہ اہم ہوگا کہ کیا لیگ مزید اسپانسرز کو اپنی طرف متوجہ کر سکے گی؟۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کی مارکیٹنگ ٹیم نے حسن علی کو "لیفٹ آرم بالر" بناڈالا
قبل ازیں مارچ کے وسط میں خبریں سامنے آئیں تھی کہ بورڈ نے دسویں ایڈیشن کے بعد 2 نئی ٹیموں کے شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اسوقت پاکستان سپر لیگ میں 6 ٹیمیں ہیں جن میں کراچی کنگز، لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز شامل ہیں جبکہ مزید 2 ٹیموں کے بعد ٹورنامنٹ میں شریک ٹیمز کی تعداد 8 ہوجائے گی۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل؛ "ہمیں فرنچائزز کے کوئی مالکانہ حقوق حاصل نہیں" انکشاف
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں آغاز 11 اپریل سے ہوگا جبکہ ایونٹ کا فائنل 18 مئی کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائےگا۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل میں پہلی بار "اردو کمنٹری" کا تڑکا لگایا جائے گا
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ 10ویں ایڈیشن کے آغاز سے قبل 11ویں ایڈیشن کیلئے 2 نئی فرنچائزز کے خریدار ڈھونڈ لیے گئے ہیں تاہم انکے نام ابھی سامنے نہیں لائے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مزید پڑھیں پی ایس ایل کا کہنا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔