سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے مرکزی راہنما کا کہنا تھا کہ پانی کا مسئلہ اہم ہے، ہم چاہتے ہیں ہر پاکستانی کو پانی ملے، ہم تو پریشان ہیں کہ جس طرح آبادی بڑھ رہی ہے آگے چل کر پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی راہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ عظمیٰ بخاری بیان دینے سے قبل پانی کی تقسیم کا 9119ء کا معاہدہ پڑھ لیں۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ کا کہنا تھا کہ عظمیٰ بخاری کا بیسک تعلق پیپلزپارٹی سے رہا ہے وہ ایسے بیانات نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے حالات بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ہم انہیں بہتر کر سکتے ہیں، کینالز کی تعمیر کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔

مرکزی راہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ عظمیٰ بخاری بیان دینے سے قبل پانی کی تقسیم کا 1991ء کا معاہدہ پڑھ لیں، پانی کی تقسیم کے حوالے سے 91 19ء کا معاہدہ کلیئر ہے، کینالز کی تعمیر پر اب صرف سندھ سے ہی نہیں پنجاب سے بھی آواز اٹھ رہی ہے، وہاں کے لوگوں بھی پوچھ رہے ہیں کہ اگر ان کے حصے کا پانی جائے گا تو ان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پانی کا مسئلہ اہم ہے، ہم چاہتے ہیں ہر پاکستانی کو پانی ملے، ہم تو پریشان ہیں کہ جس طرح آبادی بڑھ رہی ہے آگے چل کر پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا، جب 91 کا معاہدہ ہوا تو ہمارے پاس 114 ملین ایکڑ فٹ پانی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس صرف 94 ملین ایکڑ پانی ہے، 35 سالوں میں بیس ملین ایکڑ فٹ پانی کی قدرتی کمی واقع ہوئی ہے۔

مرکزی راہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ اس وقت ہر پارٹی اپنا الو سیدھا کررہی ہے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمیں پاکستان کی بات کرنی ہوگی یا مسائل پیدا کرنا ہوں گے، پی ٹی آئی والے بلاشبہ کوئی بھی قرار داد لائیں مگر خاموش تو ہوجائیں، پارلیمنٹ میں وہ کسی کی بات سنتے نہیں وہ کسی بات پر سنجیدہ نہیں ہیں۔ خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے کوئی پیش گوئی نہیں کرسکتا یہ عدالتی معاملہ ہے، ہمارے پاس ایشوز ہیں تو ہم صرف ان پر بات کرتے ہیں، ہم لوگوں کو پانی دینا چاہتے ہیں اور وفاق کو بچانا چاہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ پانی کی تقسیم مرکزی راہنما کا معاہدہ چاہتے ہیں نے کہا

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا