UrduPoint:
2026-07-24@01:37:39 GMT

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے

اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے

واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اپریل ۔2025 )اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کریں گے جس میںمتوقع طور پر اسرائیل پر واشنگٹن کی جانب سے غیر متوقع ٹیرف کے نفاذ اور ایران سے بڑھتے ہوئے تناﺅ جیسے معاملات زیربحث آئیں گے امریکی صدر نے پچھلے اپنے”یومِ آزادی“ کے اعلان میں متعدد ممالک پر بلند محصولات کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے نیتن یاہو امریکی دارالحکومت میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے اولین غیر ملکی راہنما بن گئے ہیں.

(جاری ہے)

عرب نشریاتی ادارے کے مطابق ہنگری کا دورہ ختم کرکے واشنگٹن پہنچنے والے نیتن یاہو کا بنیادی مقصد ہے کہ ٹرمپ کو ٹیرف کا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کریں یا کم از کم اسرائیلی درآمدات پر عائد 17 فیصد لیوی کو اس کے نافذ ہونے سے پہلے کم کر دیں بوڈاپیسٹ سے روانگی سے پہلے نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی بات چیت کئی مسائل پر ہو گی جس میں اسرائیل پر نافذٹیرف بھی شامل ہے.

انہوں نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ سے ایک ایسے معاملے پر ملاقات کرنے والا اولین بین الاقوامی اور غیر ملکی راہنما ہوں جواسرائیل کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے مجھے یقین ہے کہ یہ خصوصی ذاتی تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان منفرد رشتے کی عکاسی کرتا ہے جو اس وقت بہت ضروری ہے. تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کے لیے محصولات سے استثنیٰ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تل ابیب کی بار ایلان یونیورسٹی میں شعبہ سیاسی علوم کے سربراہ جوناتھن رین ہولڈ نے کہا کہ اس دورے کی عجلت اس لحاظ سے معنی خیز ہے کہ ادارہ جاتی صورت میں نافذ ہونے سے پہلے یہ ٹیرف روک دیا جائے.

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رعایت نہ صرف ٹرمپ کے شرقِ اوسط کے قریبی ترین اتحادی کو فائدہ دے گی بلکہ کانگریس میں موجود ریپبلکنز بھی اس سے خوش ہوں گے جن کے ووٹرز اسرائیل کا خیال رکھتے ہیں لیکن وہ اس وقت ٹرمپ کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں . اسرائیل نے نئے محصولات سے بچنے کی کوشش میں ٹرمپ کے اعلان سے ایک دن قبل پیشگی اقدام کیا اور امریکی سامان کے ایک فیصد پر باقی تمام ڈیوٹی اٹھا لی گئی تھی جو بدستور اس سے متوثر ہیں لیکن ٹرمپ نے پھر بھی اپنی نئی پالیسی یہ کہہ کر نافذ کر دی کہ امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے جو امریکی فوجی امداد سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے.

عبرانی یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر یانے سپٹزر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ ان کے لیے ٹرمپ کو دکھانے کا ایک طریقہ بھی ہے کہ اسرائیل ان کے ساتھ ہے اگر اسرائیل کے لیے کسی رعایت کا اعلان ہوتا ہے تو مجھے حیرت نہیں ہو گی اور یہ دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال ہو گی نیتن یاہو غزہ کی پٹی میں جنگ، فلسطینی سرزمین پر بدستور قید اسرائیلی قیدیوں اور ایران سے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی بات کریں گے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نیتن یاہو نے کہا کہ

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل