پی ٹی آئی کا امریکی کانگرس کے بل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اس بار سنجیدہ اقدامات کریں گے، رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ آزاد عدلیہ کا نہ ہونا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر عدلیہ فیصلہ نہیں کرتی تو ہمارا پولیٹیکل الائنس فیصلہ کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا امریکی کانگرس کے بل سے متعلق ردعمل سامنے آ گیا۔ میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اس بار سنجیدہ اقدامات کریں گے، رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ آزاد عدلیہ کا نہ ہونا ہے۔ بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ اگر عدلیہ فیصلہ نہیں کرتی تو ہمارا پولیٹیکل الائنس فیصلہ کرے گا، اعظم سواتی نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس پر ہم ایکشن لیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ قرآن اور قسم کی روش ختم ہونی چائیے، آئندہ کوئی بات پبلک مقام پر نہیں کی جائے گی۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ امریکہ میں کئی بل آتے رہتے ہیں، کوئی پاس ہوتے ہیں کوئی نہیں ہوتے، میں نے بل دیکھا ہے نہ پی ٹی آئی کا اس بل سے کوئی لینا دینا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔