ٹرمپ نے پینگوئنز کے جزیرے پر ٹیرف کیوں عائد کیا؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
ڈونلڈ ٹرمپ نے جن ممالک پر نئے ٹیرف عائد کیے ہیں ان میں ایسے جزیرے بھی شامل ہیں جہاں انسان نہیں بلکہ صرف پینگوئنز آباد ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ جزیرہ آسٹریلیا کی ملکیت ہے اور انٹار کٹیکا میں واقع ہے جب کہ اس کے رہائشی پینگوئنز ہیں اور دس سال سے یہاں کوئی انسان نہیں گیا۔
جب اس علاقے پر ٹیکس عائد کرنے پر تنقید کی گئی اور مذاق اُڑایا گیا تو امریکی حکام اس عجیب و غریب اقدام پر ردعمل دینے پر مجبور ہوگئے۔
امریکی سیکرٹری تجارت ہاورڈ لٹنک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بتایا کہ ایسے جزائر پر ٹیرف کا مقصد ان خامیوں کو دور کرنا ہے جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ممالک ٹیر ف سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ اگر علاقوں کو ٹیرف کی فہرست سے نکال دیا جائے تو کچھ ممالک انھی راستوں سے درآمد کیا کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا صدر ٹرمپ ان چالاکیوں کو زیادہ بہتر جانتے ہیں اور وہ اس سے تنگ آ چکے تھے اس لیے ان نقائص کو درست کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔