اسلام آباد (خبر نگار+ اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت داخلہ کے ڈرون حملے سے متعلق بیان پر اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں احتجاج کیا۔ ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور سپیکر سے تلخ کلامی کی۔ تاہم ایاز صادق نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت پھر بھی نہیں دی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ پی ٹی آئی اراکین نے بازوئوں پر کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں آرمی چیف سید عاصم منیر کی والدہ اور مختلف علاقوں میں شہید ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت کروائی گئی۔ دعا مولانا عبدالغفور حیدری نے کرائی۔ اپوزیشن رکن قومی اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی دفعہ اپنے ڈرونز نے اپنے نہتے لوگوں پر حملہ کیا۔ مردان کاٹلنگ میں ڈرون حملہ کیا گیا۔ بے گناہ شہید ہوئے۔ واقعہ پر افسوس کرنے کی بجائے لوگوں کو دہشتگرد قرار دیا گیا۔ مجاہد علی  اپوزیشن رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ مردان ڈرون حملے کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے۔ مارے جانے والے لوگوں کیلئے پیکج کا اعلان ہونا چاہئے۔ مصباح الدین رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں کرفیو کا کوئی جواز نہیں ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں جنید اکبر نے کہا کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ شہری شہید ہو رہے ہیں۔ ایک غریب ملک کئی ہزار ارب سکیورٹی پر لگا رہا ہے۔ اتنے وسائل خرچ کرنے کے باوجود اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کا کام حکومتیں گرانا اور بنانا نہیں ہے۔ اتنے وسائل اس لئے نہیں لگائے جاتے کہ منرلز اور مائنز کا کاروبار کیا جائے۔ جنید اکبر خان  نے کہا کہ اگر افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ ہے تو یہ دہشت گرد ایران اور افغانستان کیوں نہیں جاتے؟۔ جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ لوگوں کو سکیورٹی کی میٹنگ میں آنا چاہئے تھا، وہ میٹنگ حکومت یا اپوزیشن کی نہیں تھی۔ آپ کو اجلاس میں کے پی اور بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کرنا تھا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی خاطر یونٹی دکھانی چاہئے۔ آپ لوگوں نے سنہرا موقع ضائع کیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سات سے آٹھ روپے بجلی کی قیمت کم ہوچکی ہے۔ یہ مبارکباد دائیں اور بائیں جانب بیٹھے دوستوں کو دوں گا۔ اب لوگوں کو روزگار ملے گا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران  آغا رفیع اللہ کے انٹرنیٹ سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ 25  فیصد انٹرنیٹ کا استعمال بڑھا ہے۔ رکن اسمبلی سید امین الحق نے کہا کہ یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے بارے میں بتا دیں۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ انضمام کی تمام ڈاکومینٹیشن تقریباً مکمل ہے۔ نیبیل گبول نے کہا کہ آج آئی ٹی کمیٹی میں سٹار لنک کے حوالے سے بات کی گئی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ نہیں کہا گیا کہ کسی اور کمپنی کا انتظار ہو رہا ہے۔ ہماری اوپن سپیس پالیسی ہے۔ سٹار لنک کو جس دن لائسنس جاری ہو گا اس کے بعد پانچ چھ ماہ درکار ہوں گے۔ اجلاس میں وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے موجود نہ ہونے سپیکر نے برہمی کا اظہار کیا اور سپیکر نے وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کو جواب دینے کی ہدایت کی تو وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی وزیر کے آنے تک سوال موخر کرنے کی درخواست پر سپیکر نے وزیر کو پانچ منٹ دے دیئے۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ ہم نے بجلی خریدنی ہوتی ہے نہیں خریدتے تو کپیسٹی پیمنٹ دینی ہوتی ہے۔ مارگلہ کے پہاڑ بالکل ننگے ہو چکے ہیں، ان کو آباد کرنے کا پروگرام ہے۔ حنا ربانی کھر نے سوال کے دوران مصدق ملک کی منسٹری کی تبدیلی سے متعلق تذکرہ کیا تو اس پر انہوں نے کہا کہ اگر آپ کرپشن پر یقین رکھتے ہیں تو پھر تو یہ سزا ہے، یہ فیصلہ آپ پر چھوڑ دیتا ہوں کہ یہ سزا ہے یا جزا ہے۔  رکن اسمبلی انجم عقیل خان کے سائبر کرائمز سے متعلق سوال پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پوری دنیا میں سائبر کرائمز کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی نے کہا کہ دوسرے نمبر پر میسج جاتا ہے اور پیسوں کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے واٹس ایپ ہیک کر لیا جاتا ہے، ایف آئی اے میں شکایت کی جاتی ہے تو کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا جس پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تصدیق کئے بغیر پیسے ٹرانسفر نہ کئے جائیں، ادارے بڑی مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ جناب سپیکر آپ سے اور اسمبلی سٹاف سے گلہ، ہم نے سوالات جمع کیے لیکن ابھی وقفہ سوالات پر نہیں آئے، کیا مجھے بلیک لسٹ کردیا گیا۔ میں نے گاڑیوں اور پلاٹس کے حوالے سے سوال کیا تھا۔ جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ کو کل تک تفصیلی جواب مل جائے گا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ سینکڑوں آپریشن انٹیلی جنس بنیادوں پر کئے جاتے ہیں۔ کٹلان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سویلین آبادی نہیں ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں ترقی کا ذمہ صوبوں کا ہے۔ این ایف سے ایوارڈ کے تحت ملنے والے حصے کے مطابق انہوں نے کیا ترقی کی، صوبے میں فرانزک لیب تیرہ سال سے نہیں بنا سکے۔ اجلاس میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ  29مارچ کی صبح کا واقعہ ہے روزانہ سینکڑوں آپریشن انٹیلیجنس بنیادوں پر کیا جاتا ہے، کٹلان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سویلین آبادی نہیں ہے۔ جس پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ وزیر صاحب جھوٹ بول رہے ہیں، ان کو معلوم ہی نہیں علاقے کا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ اگر یہ میری بات نہیں سنیں گے تو کیسے چلے گا۔ کٹلان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ مارے گئے دہشتگرد مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔ طلال چوہدری کے بیان پر عمر ایوب نے احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ میں سندھ میں گیا تھا وہاں کے لوگوں کا خدشہ تھا، نہروں کا معاملہ ایک برننگ ایشو ہے۔ راجہ پرویز اشرف  نے کہا کہ سندھ کے لوگوں کا خدشات ہیں کہ پانی کی تقسیم صحیح نہیں ہورہی۔ میں سب دوستوں کو گزارش کرتا ہوں کہ جو چیزیں ملک کے لئے بہتر ہوں وہ کریں، اس وقت سب سے بنیادی چیز ہے وہ پاکستان ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء  اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اکائیاں مضبوط ہوں گی تو وفاق مضبوط ہوگا، ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، پانی کی تقسیم کا قانون موجود ہے، ہمیں تمام صوبے عزیز ہیں، بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں، اپوزیشن لیڈر نے اپنے رویے سے ثابت کیا کہ وہ نااہل اپوزیشن لیڈر ہیں، وہ عوامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں۔ 1991ء کے پانی کی تقسیم کے معاہدہ پر تمام صوبوں کے دستخط موجود ہیں،  اسی پارلیمان نے ارسا ایکٹ 1992ء منظور کیا، اس ایکٹ کے تحت پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ایک منصفانہ نظام وضع کیا گیا، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی قائم کی گئی جس کے تحت رولز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی اور جمہوری لوگ ہیں اور اتفاق رائے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔  وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ ٹیکنیکل مسئلہ ہے، اس کا حل بھی ٹیکنیکل طور پر ہی نکلتا ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس مسئلے کا حل افہام و تفہیم سے نکل سکے۔ وفاقی وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کبھی کبھار غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں وزیر اعظم نے سیاسی معاملات حل کرنے کی ذمہ داری لگائی ہے، سندھ کے پانی کے ایک قطرے کا حق بھی نہیں مارا جائے گا۔ یقین دہانی کراتا ہوں آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ سندھ میں کچھ لوگ اس منصوبے کو لے کے بیٹھ گئے ہیں جن کا مقصد کچھ اور ہے۔ وزیر اعلی سندھ کو کہا کہ اس مسئلے پر بیٹھیں اور بات کریں۔ میں نے ٹیلی میٹرنگ سسٹم لگایا تاکہ شفافیت آئے۔ جن کی سیاست سندھ میں ختم ہوگئی تھی وہ اٹھ گئے ہیں۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس چوہدری نے کہا کہ طارق فضل چوہدری پانی کی تقسیم اپوزیشن لیڈر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر اجلاس میں انہوں نے مصدق ملک عمر ایوب نہیں ہے رہے ہیں کرنے کی کے لئے

پڑھیں:

سینیٹ اجلاس میں کینالز کے معاملے پر پیپلزپارٹی کا واک آوٹ، اپوزیشن کا شور شرابہ

وزیر قانون نے کہا کہ وفاقی وزیر آبی وسائل یہاں موجود ہیں اور ہماری کابینہ کے سینیئر اراکین بیٹھے ہوئے ہیں، یہ سب سوالوں کے جواب دینے کے لیے یہاں موجود ہیں، اگر یہ طرز سیاست آپ نے رکھنا ہے تو اس سے ملک کی خدمت نہیں ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے کی وجہ سے ایوان مچھلی بازار بن گیا، کینالز کے معاملے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، پیپلزپارٹی کے خلاف منافقانہ سیاست کے نعرے لگائے گئے جبکہ کینالز کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کینالز کے معاملے پر قانون اور آئین کے مطابق بیٹھ کر بات ہوگی، رانا ثناء اللہ وزیر اعظم کی ہدایت پر حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے معاملے پر احتجاج کے بجائے بات چیت کریں، وزیر اعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور رانا ثنااللہ نے حکومت سندھ سے رابطہ کیا ہے اور یہ پیغام پہنچایا ہے کہ یہ سارا معاملہ آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جائے گا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس سلسلے میں کثیر جماعتی مشاورت کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی چیز بلڈوز نہیں ہو رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان نے اس بابت خصوصی ہدایت کی جس کے بعد رانا ثناء اللہ حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہماری حلیف جماعت ہے، یہ بالکل واضح فیصلہ ہے کہ اس معاملے پر قانون اور آئین کے مطابق بیٹھ کر بات ہوگی، لیکن اپوزیشن شائد بات اس لیے نہیں سننا چاہتی کہ اس کے پاس پوچھنے کو نہ کوئی سوال ہے اور نہ سننے کی ہمت ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ وفاقی وزیر آبی وسائل یہاں موجود ہیں اور ہماری کابینہ کے سینیئر اراکین بیٹھے ہوئے ہیں، یہ سب سوالوں کے جواب دینے کے لیے یہاں موجود ہیں، اگر یہ طرز سیاست آپ نے رکھنا ہے تو اس سے ملک کی خدمت نہیں ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت کیلئے فضائی حدود بند، تجارت ختم، پانی روکنا جنگ کا اقدام تصور، پوری طاقت سے جواب دینگے، قومی سلامتی کمیٹی
  • بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کیا تو شملہ سمیت دیگر معاہدے ختم کرنے کا حق رکھتے ہیں،وفاقی وزراء
  • حکومت مخالف احتجاج کو آج حتمی شکل دیئے جانے کا امکان، استعفوں پر غور
  • اڈیالہ جیل پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں: ملک احمد خان
  • نہریں: پی پی، اپوزیشن کا احتجاج: کثیر پارٹی مشاورت زیر غور، وزیر قانون
  • پنجاب اسمبلی: گندم کی قیمت کا اعلان نہ ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج: چھوٹے کسانوں کو تحفظ دینگے، حکومت
  • سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن سینیٹرز کا شور شرابہ، ہنگامہ آرائی
  • سینیٹ اجلاس میں کینالز کے معاملے پر پیپلزپارٹی کا واک آوٹ، اپوزیشن کا شور شرابہ
  • ’پانی چوری نامنظور‘، سینیٹ میں وزیر قانون کی تقریر کے دوران اپوزیشن کے نعرے، پی پی کا واک آؤٹ
  • پنجاب اسمبلی : پوپ کیلئے ایک منٹ خاموشی ،3بل منظور ‘ 2کمیٹیوں کے سپرد : اپوزیشن کا واک آئوٹ