کابینہ میں توسیع اور قلمدانوں میں ردوبدل کے بعد 5 کمیٹیوں کی تشکیل نو
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) کابینہ میں توسیع اور قلمدانوں میں ردوبدل کے بعد 5کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل نوکر دی گئی ۔نوٹی فکیشن کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین نائب وزیر اعظم برقرار رہیں گے جبکہ ارکان میں وزیر خزانہ، وزیر تجارت اور وزیر پاور شامل ہوں گے۔کمیٹی میں وزیر نجکاری اور وزیر صنعت و پیداوار کی رکنیت ختم کردی گئی ہے، یاد رہے کہ وزیر اعظم نے وفاقی وزیر عبد العلیم خان سے نجکاری کا قلمدان گزشتہ ماہ واپس لے لیا تھا۔اس وقت نجکاری کا کوئی وفاقی وزیر نہیں ہے جبکہ محمد علی کے پاس مشیر نجکاری کا قلمدان ہے جبکہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر رانا تنویر سے صنعت و پیداوار کا قلمدان واپس لے لیا تھا۔ کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل نو کی تھی ان میں اقتصادی رابطہ کمیٹی، قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی، کابینہ کمیٹی امیگریشن اوورسیز ایمپلایمنٹ اینڈٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اور کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کابینہ کمیٹی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔