اینٹی نارکوٹکس فورس اور ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کے درمیان منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے نمٹنے کیلئےتعاون بڑھانے پر مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئےہیں۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان کے درمیان منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کے مقصد سے ایک مفاہمت نامے (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ باہمی ڈیٹا کی منتقلی، آپریشنل تعاون اور منشیات کے رجحانات کا بروقت تجزیہ کرنے پر مرکوز ہے۔​ صوبائی ڈائریکٹر بلوچستان اور سیکرٹری ایکسائزٹیکسیشن اوراینٹی نارکوٹکس بلوچستان ظفر علی بخاری نے ڈاکومنٹس پر دستخط کیے۔ اس موقع پر اے این ایف کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عبدالمعید اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ یہ اقدام وفاقی حکومت کی انٹر ایجنسی ٹاسک فورس (IATF) کے فریم ورک کے تحت وفاقی اور صوبائی سطحوں پر منشیات سے نمٹنے کے لیے اداروں کی کوششوں کو تقویت دیتا ہے۔​ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم