فلسطینیوں کی غزہ سے جبری ہجرت کی تیاریاں شروع
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
GAZA:
اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق غزہ پٹی سے فلسطینیوں کو شام کے شمال میں ترکیہ کی سرحد کے قریب خیمہ بستیوں میں زبردستی بسانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اس منصوبے کے حوالے سے اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر اور ترکیہ زبردستی یجرت کے حوالے سے شامی حکومت سے رابطے میں ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ میں شہادتوں کی تعداد 50,810 تک پہنچ گئی، صرف 24 گھنٹوں میں 58 فلسطینی شہید
اسرائیلی میڈیا کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کو خیمہ بستیوں میں بسانے کے منصوبے کا انتظام ترکیہ کے 2 اداروں کے پاس ہے تاہم ان دونوں اداروں نے اس کی تردید یا تصدیق سے انکار کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیل اور امریکا فلسطینیوں کو شام میں بسانے کا منصوبہ پیش کر چکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے بھی خبر دی ہے کہ امریکا اور اسرائیل غزہ کے باسیوں کو شام میں آباد کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ امریکا نے فلسطینیوں کو خیمہ بستیوں میں بسانے کے حوالے سے شام کی نئی حکومت سے رابطہ کیا تھا، لیکن شامی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ انہیں اس رابطے کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو کے حوالے سے
پڑھیں:
مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے جبکہ حالیہ حملے میں 4 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے طیل پر جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں چار فلسطینی شہید اور چار زخمی ہوگئے، جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ نابلس کے جنوب مغرب میں واقع طیل میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے اور چار دیگر زخمی ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔
مقامی اور سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی قابضین نے قصبے میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا اور دو گھروں کی طرف براہ راست فائرنگ کی۔