روبوٹ کے ذریعے حمل ٹھہرانے والی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
میکسیکو میں ایک 40 سالہ خاتون کے ہاں پہلی مرتبہ روبوٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے حمل ٹھہرائے جانے کے بعد بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
اس سے قبل نیویارک میں بیٹھے ماہرین نے ’ان وٹرو فرٹلائزیشن‘ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک روبوٹ کے ذریعے کامیابی سے نطفہ خاتون کے اندر پلانٹ کیا تھا جس سے اب بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: قبل از وقت بچے کی پیدائش: وجائنا بیمار ہے!
یہ پیچیدہ عمل 23 مراحل پر مشتمل تھا جس میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کا لایا گیا۔
اس ٹیکنالوجی کو طب کے میدان میں ایک نیا سنگ میل قرار دیا جارہا ہے جس سے وہ خواتین بھی بچہ پیدا کرنے کے قابل ہوجائیں گی جو تولیدی صحت سے متعلق مختلف مسائل کی وجہ سے اس سے قاصر تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچے کی پیدائش
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔