Express News:
2026-07-24@15:27:22 GMT

معافی اور توبہ

اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT

’’ اچھا تم بتاؤ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو سب سے بڑا تحفہ کیا دیا تھا‘‘ وہ مسکرائے اور میری طرف دیکھا‘ میں سوچ میں پڑ گیا‘ وہ اس دوران میری طرف دیکھتے رہے‘ میں نے تھوڑی دیر سوچا اور عرض کیا ’’ شعور‘‘ انھوں نے انکار میں سر ہلا دیا‘ میں نے عرض کیا ’’ عقل‘‘ وہ فوراً بولے ’’ شعور اور عقل دونوں ایک ہی چیز ہیں‘‘

میں نے مزید سوچا اور عرض کیا ’’ آکسیجن‘ سورج کی روشنی‘ پانی‘ خوراک اور جمالیاتی حس‘‘ انھوں نے ناں میں گردن ہلا دی‘ میں نے عرض کیا ’’تعمیر کا فن‘ انسان کائنات کی واحد مخلوق ہے جو پتھروں کو ہیرے کی شکل دے سکتی ہے‘ جو مٹی کا محل بنا سکتا ہے اور جو ریت کے ذروں کو شیشے میں ڈھال سکتا ہے‘‘

وہ مسکرائے اور انکار میں سر ہلا دیا‘ میں نے اس کے بعد انسان کی تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کا نام لینا شروع کردیا لیکن وہ انکار میں سر ہلاتے رہے یہاں تک کہ میں تھک گیا اور بے بسی سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘

وہ مسکرائے اور نرم آواز میں بولے ’’ آپ نے انسان کی جن خوبیوں اور صلاحیتوں کا ذکر کیا وہ تمام اﷲ تعالیٰ کی دین ہیں اور جب تک اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے یہ خوبیاں قائم اور دائم رہتی ہیں لیکن جب اﷲ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو انسان فرعون ہو یا نمرود یا بش اس کی خوبیاں اس کی خامیاں بن جاتی ہیں اور وہ دنیا میں زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے‘‘

میں خاموشی سے سننے لگا‘ وہ بولے ’’ میں آپ کو اب اس سب سے بڑے تحفے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اﷲ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا‘‘ میں ہمہ تن گوش ہوگیا‘ وہ بولے ’’ قدرت نے انسان کو اﷲ تعالیٰ کو خوش کرنے کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ دنیا کی کوئی دوسری مخلوق‘ کوئی خاکی یا نوری پیکر اس خوبی کی مالک نہیں‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا ’’ جناب میں آپ کی بات نہیں سمجھا ‘‘ وہ بولے ’’ مثلاً تم چاند کو لے لو‘ اﷲ تعالیٰ نے جب کائنات بنائی تو اس نے چاند میں ایک پروگرام فیڈ کر دیا اور چاند اب اس پروگرام کے تحت چمک رہا ہے اور جب تک قدرت پروگرام نہیں بدلے گی یہ چاند اسی طرح چمکتا رہے گا‘

آپ سورج ‘ ستاروں اور سیاروں کولے لیجیے‘ زمین کی حرکت کو لیجیے‘ ہواؤں‘ فضاؤں ‘ندیوں اور نالوں کو لے لیجیے‘ دریاؤں‘ سمندروں اور پہاڑوں کو لے لیجیے‘ زلزلوں‘ طوفانوں اور سیلابوں کو لے لیجیے‘ یہ تمام ایک پروگرام کے تحت چل رہے ہیں اور قدرت یہ پروگرام فیڈ کر کے ان سے لاتعلق ہو گئی‘‘ وہ خاموش ہوگئے۔

میں نے عرض کیا ’’ جناب میں اب بھی آپ کا نقطہ نہیں سمجھ سکا‘‘ وہ بولے ’’ دنیا کا کوئی پہاڑ‘ کوئی درخت‘ کوئی جانور‘ کوئی ستارہ اور کوئی سیارہ اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتا لیکن انسان کو اﷲ تعالیٰ نے اس خوبی سے نواز رکھا ہے کہ وہ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے‘ وہ اسے راضی کر سکتا ہے‘‘

میں نے عرض کیا ’’ جناب میں یہی تو آپ سے پوچھ رہا ہوں‘‘ وہ مسکرائے اور بولے ’’ لیکن اس نقطے کو سمجھنے کے لیے مجھے پیچھے تاریخ میں جانا پڑے گا‘‘ میں خاموشی سے سننے لگا‘ وہ بولے ’’ آپ شیطان اور حضرت آدم ؑ کا واقعہ دیکھیے‘ اﷲ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا وہ انسان کو سجدہ کرے‘ شیطان نے حکم عدولی کی ‘ اﷲ تعالیٰ اس سے ناراض ہوئے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راندئہ درگاہ کردیا‘ شیطان آسمانوں سے اترا اور کروڑوں سال سے زمین پر خوار ہو رہا ہے۔

جب کہ اس کے مقابلے میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو گندم کا دانہ چکھنے سے منع فرمایا‘ حضرت آدم ؑ نے بھی اﷲ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی‘ اﷲ تعالیٰ ان سے بھی ناراض ہوئے اور انھیں بھی آسمان سے زمین پر بھیج دیا لیکن حضرت آدم ؑ کے رویے اور شیطان کے رویے میں بڑا فرق تھا‘‘ وہ دم لینے کے لیے رکے اور دوبارہ گویا ہوئے ’’ شیطان زمین پر آنے کے باوجود اپنی بات پر اڑا رہا۔

جب کہ حضرت آدم ؑ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اﷲ تعالیٰ سے توبہ کرنے لگے‘ وہ سجدے میں پڑے رہتے تھے ‘روتے جاتے تھے اور اﷲ تعالیٰ سے اپنی کوتاہی‘ اپنی غلطی ‘ اپنے جرم اور اپنے گناہ کی معافی مانگتے جاتے تھے‘ حضرت آدم ؑ کی توبہ کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک اﷲ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول نہ کرلی اور مشیت ایزدی ان سے راضی نہ ہوگئی‘‘ وہ خاموش ہوگئے۔ 

ہمارے درمیان خاموشی کے بے شمار پل گزر گئے‘ جب یہ وقفہ طویل ہوگیا تو میں نے عرض کیا’’ جناب میں اب بھی آپ کی بات نہیں سمجھا‘‘ وہ مسکرائے اور نرم آواز میں بولے ’’ اﷲ تعالیٰ کا انسان کے لیے سب سے بڑا انعام توبہ ہے‘ انسان اس انعام ‘ اس تحفے کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کی ذات کو راضی کر سکتا ہے اور وہ اﷲ جو اپنے بندے کی کسی خطا‘ کسی جرم‘ کسی کوتاہی اور کسی گناہ سے ناراض ہوتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ بندے کی توبہ سے مان جاتا ہے اور اس بندے پر اپنے رحم‘ اپنے کرم اور اپنی محبت کے دروازے کھول دیتا ہے اور یوں انسان سکون میں چلا جاتا ہے‘‘ ۔

وہ رکے اور دوبارہ بولے ’’ جب تک انسان کو اﷲ کی محبت‘ کرم اور رحم نصیب نہیں ہوتا اس وقت تک انسان کو سکون‘ آرام‘ چین‘ خوشی اور مسرت حاصل نہیں ہوتی‘ خوشی ‘ خوش حالی اور سکون اﷲ کی رضا مندی سے منسلک ہے اور جو شخص‘ جو قوم اور جو طبقہ اﷲ تعالیٰ کی رضا مندی سے محروم ہو جاتا ہے اس کا سکون‘ خوشی اور خوشحالی چھن جاتی ہے۔

چناںچہ جب بھی انسان کا رزق تنگ ہو جائے‘ اس کا دل مسرت اور خوشی سے خالی ہو جائے‘ وہ چین اور سکون سے محروم ہو جائے اور اسے زندگی میں ایک تپش ‘ڈپریشن اور ٹینشن کا احساس ہو تو اسے چاہیے وہ اﷲ تعالیٰ کے حضور جھک جائے ‘وہ کثرت سے توبہ کرے اور وہ اﷲ تعالیٰ کو راضی کرے‘‘

میں خاموش رہا‘ وہ بولے ’’ یہ سکون کا ایک نسخہ ہے‘ سکون کا دوسرا نسخہ معافی ہے‘ ہم لوگ دن میں اوسطاً سو سے تین سو تک غلطیاں کرتے ہیں‘ اگر ہم ہر غلطی پر معذرت کو اپنی روٹین بنالیں‘ ہم نے جلدبازی‘ بے پروائی‘ نفرت‘ غصے‘ تکبر اور ہٹ دھرمی میں جس شخص کا حق مارا‘ ہم نے جس کو نقصان پہنچایا اور ہم نے جس کو ڈسٹرب کیا‘ ہم اگر فوراً اس شخص سے معافی مانگ لیں تو بھی ہماری زندگی میں سکون ‘ آرام اور خوشی آسکتی ہے‘ ہمیں معافی مانگنے میں کبھی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔

کیونکہ معافی وہ چٹان ہے جس کے نیچے سکون‘ خوشی اور خوشحالی کے چشمے چھپے ہیں اور جب تک ہم یہ چٹان نہیں سرکائیں گے‘ ہم خوشی‘ خوشحالی اور سکون کا ٹھنڈا پانی نہیں پی سکیں گے‘‘ وہ رکے اور دوبارہ بولے ’’ یاد رکھو دنیا میں صرف اور صرف شیطان توبہ اور معافی سے دور رہتا ہے جب کہ اﷲ کے بندے ان دونوں چیزوں کو اپنی روٹین بنا لیتے ہیں‘ ہٹ دھرمی‘ تکبر‘ ظلم‘ ضد‘ نفرت اور غصہ شیطان کی خامیاں ہیں اور جن لوگوں کی ذات میں یہ ساری خامیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں‘ تم کبھی ان کے منہ سے توبہ اور معافی کا لفظ نہیں سنو گے۔

چناںچہ تم کبھی ان لوگوں کو پرسکون‘ خوش اور خوش حال نہیں پاؤ گے‘ یہ دولت مند ہو سکتے ہیں لیکن یہ دولت انھیں خوشی اور سکون فراہم نہیں کرتی‘ تم ان لوگوں کا انجام بھی اچھا ہوتا نہیں دیکھو گے جب کہ معافی اور توبہ کرنے والے لوگوں میں تمہیں غصہ‘ نفرت‘ضد‘ ظلم‘ تکبر اور ہٹ دھرمی نہیں ملے گی اور تمہیں یہ لوگ کبھی پریشان‘ ڈپریس اور ٹینس نہیں ملیں گے چنانچہ ہر لمحہ لوگوں سے معافی مانگتے رہو اور اﷲ سے توبہ کرتے رہو‘ تمہاری زندگی سے کبھی سکون‘ خوشی اور خوش حالی کم نہیں ہوگی‘‘ وہ خاموش ہوگئے‘ میں نے ان کے گھٹنے چھوئے اور باہر آگیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وہ مسکرائے اور میں نے عرض کیا وہ اﷲ تعالی لے لیجیے ناراض ہو خوشی اور اور سکون انسان کو سے توبہ اور خوش ہیں اور جاتا ہے سکتا ہے کر سکتا کے لیے ہے اور اور وہ

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا