وزیر خزانہ کے اعترافی بیان نے حکومت کے دعوؤں کا پول کھول دیا: بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کے اعترافی بیان نے حکومت کے دعوؤں کا پول کھول دیا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے مہنگائی کے بے قابو ہونے اور ایف بی آر میں کرپشن کا اعتراف کیا ہے، محمد اورنگزیب نے حکومت کے دعوؤں کی حقیقت عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک پیج پر نظر نہیں آتے، حکومت دعوؤں کے بجائے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مہنگائی میں کمی کے اثرات عوام تک نہ پہنچنے اور ایف بی آر میں کرپشن روکنے میں حکومت کی ناکامی کا اعتراف کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ چینی، مرغی اور دالوں کی قیمتوں پر نظر ہے، عالمی سطح پر قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور یہاں اوپر جارہی ہیں، مڈل مین من مانی کر رہے ہیں۔محمد اورنگزیب نے ایف بی آر میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے تاجروں سے اپیل کی کہ رشوت نہ دیں اور کہا کہ ایسے لوگوں کو فارغ کر رہے ہیں جو بدعنوانی میں ملوث ہیں، رشوت کی تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اگر ٹیکس نظام میں رشوت لینے والے موجود ہیں تو انہیں رشوت دینے والے بھی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب
پڑھیں:
گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔