وفاقی حکومت کا آزاد کشمیر میں بین الاقوامی ایئرپورٹ بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک : سمندر پار پاکستانیوں کے دیرینہ مطالبے پر وفاقی حکومت نے آزاد جموں وکمشمیر میں بین الاقوامی ایئرپورٹ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کو اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل کشمیری نژاد برطانوی ممبران پارلیمنٹ کا لکھا گیا ایک خط بھی منظر عام پر آیا ہے جس میں اس مطالبے کی حمایت کی گئی ہے۔ خط میں برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کو آزاد کشمیر میں ایئرپورٹ کی تعمیر پر زور دیا تھا۔
لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سکیم ایف بلاک میں بجلی کی تنصیب کا افتتاح
اوور سیز پاکستانیوں کے پُرزور مطالبہ کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر اسلام آباد میں ایئرپورٹس اتھارٹی نے اس منصوبے کے لیے کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرنے کا اشتہار بھی جاری کر دیا ہے۔ اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اہل کنسلٹنٹس طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ٹینڈر کے عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔
دریں اثناء اوورسیز پاکستانیوں کا پہلا سالانہ کنونشن آج اسلام آباد میں شروع ہوگا۔ اس کنونشن کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی قومی معیشت میں شراکت کو تسلیم کرنا ہے۔ حکومت نے کنونشن میں شرکت کرنے والے سمندر پار پاکستانیوں کو ریاستی مہمانوں کا درجہ دے دیا ہے۔
سندھ حکومت اپنی اداؤں پر غور کرے: وزیر اطلاعات پنجاب
اوورسیز پاکستانیز کنونشن ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جہاں سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ حکومتی نمائندے اور قومی ادارے ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہوں گے۔ اس کی سہولت کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ سمندر پار پاکستانیوں کو ایک ہی جگہ پر معلومات، رہنمائی اور خدمات فراہم کی جا سکیں۔
وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے ایک ویڈیو پیغام میں سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اوورسیز پاکستانیز کنونشن کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آراء اور تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
لاہور میں 278 ٹریفک حادثات، 341 افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سمندر پار پاکستانیوں
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔