Daily Ausaf:
2026-07-24@15:25:56 GMT

انطالیہ سے لاہور تک مریم نواز کی عالمی ڈپلومیسی

اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT

ڈپلومیسی ایک ایسا لفظ ہے جسے سنتے ہی ذہن میں نفیس لباس، نرم لہجہ، شائستہ انداز، اور بہت تہذیب سے کہے گئے ایک’’نا‘‘کی تصویر ابھرتی ہے۔ درحقیقت یہ وہ فن ہے جس میں انسان سامنے والے کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ’’آپ کی بات نہ صرف درست ہے بلکہ ہم ہمیشہ سے اس کی حمایت کرتے آئے ہیں‘‘ اور پھر خاموشی سے اپنے مفاد کی راہ بھی چن لیتا ہے۔
یہ ہنر اب محض بادشاہوں کے دربار یا اقوام متحدہ کے اجلاسوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ تو اب عام گھریلو سطح تک پھیل چکا ہے۔ دفتر میں باس سے کہنا: جناب ! آپ کی دور اندیشی واقعی لاجواب ہے۔ جب کہ دل کچھ اور کہہ رہا ہو… یہی تو ہے روزمرہ کی ڈپلومیسی۔ یہ اب کوئی خفیہ فن نہیں رہا بلکہ ہر دوسرا شخص اس کا ماہر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اسے تھری پیس سوٹ میں استعمال کرتا ہے تو کوئی سادہ شلوار قمیص میں۔
اسی ڈپلومیسی کی دنیا میں ایک اہم عالمی ایونٹ ’’ڈپلومیسی فورم 2025‘‘ ترکیہ کے خوبصورت شہر انطالیہ میں منعقد ہوا۔ دنیا بھر سے رہنما، اسکالرز، پالیسی ساز اور سفارتی ماہرین اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے کی جو ترکیہ کی خاتونِ اول محترمہ امینے ایردوان کی خصوصی دعوت پر وہاں پہنچیں۔ ان کا پرتپاک استقبال انطالیہ کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر سعاد سید اوغلو اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
کانفرنس کا موضوع تھا: ’’تقسیم شدہ دنیا میں مستقبل کی تعمیر ۔! تعلیم تبدیلی لانے کی ایک طاقت‘‘۔ اس عنوان کے عین مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پراعتماد انداز میں خطاب کیا اور لاہور میں نواز شریف انٹرنیٹ سٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ صوبے میں آئی ٹی کے فروغ اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک انقلابی کوشش ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2024 ء میں وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے وہ تعلیم، اصلاحات اور جدیدیت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اصلاحات کا آغاز اسکولوں سے کیا اور ان کے لیے نواز شریف اور شہباز شریف کی کامیاب پالیسیاں مشعلِ راہ ہیں۔ صرف عمارتیں نہیں بلکہ روایتی سوچ کو بدلنا اصل چیلنج ہے۔انہوں نے بتایا کہ 4000سے زائد پرائمری اسکول ایلیمنٹری سطح پر اپ گریڈ کیے جا رہے ہیں اور 6000 اسکولوں میں ڈیجیٹل لرننگ رومز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ جدید سکرینوں پر سائنس اور ٹیکنالوجی سیکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ وہ خود کو صرف وزیراعلیٰ نہیں بلکہ ’’ایجوکیشن کی سفیر‘‘ سمجھتی ہیں اور گرلز ایجوکیشن میں ہر طالبہ کی ماں کی طرح سوچتی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے اسکول نیوٹریشن پروگرام بھی جاری ہے۔اساتذہ کی بھرتی اور تربیت پر زور دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ 30 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے جا رہے ہیں اور ہر طالب علم کی انفرادی ضروریات کو مدنظر رکھ کر لرننگ ماڈل متعارف کروایا جا رہا ہے، آرٹیفشل انٹیلیجنس کی مدد سے تعلیمی پلیٹ فارمز تیار کیے جا رہے ہیں۔مریم نواز نے اعلان کیا کہ لاہور میں نواز شریف انٹرنیٹ سٹی اور پاکستان کی پہلی اے آئی یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے جو ڈیجیٹل دور کی طرف ایک انقلابی قدم ہو گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا ’’میری حکومت اور میری جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اس یقین پر قائم ہے کہ تعلیم صرف ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک انقلاب ہے۔ ہم نے تعلیم کو’پہلی ایمرجنسی‘ قرار دیا ہے۔ بجٹ میں سب سے بڑا حصہ اسی کے لیے مختص ہے اور عملدرآمد میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جاتی۔‘‘
انہوں نے لیپ ٹاپ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کی وہ واحد حکومت ہیں جس نے طلبہ کو عملی طور پر بااختیار بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ ہماری لیپ ٹاپ اسکیم اس کی روشن مثال ہے۔ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں طلبہ کو مفت لیپ ٹاپ دیئے گئے ہوں تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے جڑ سکیں۔انہوں نے تعلیمی ترقی کے لیے اسکالرشپ، فری انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور ڈیجیٹل لرننگ نیٹ ورک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب صرف علم ہی نہیں بلکہ مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غریب، یتیم اور ذہین بچوں کے لیے تعلیم مکمل طور پر مفت کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر طبقات کے لیے بھی تعلیمی سہولیات کو قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے دانش اسکول سسٹم کا بھی ذکر کیا جو نہ صرف پنجاب بلکہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی عالمی معیار کے مطابق قائم کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی یہ تقریر نہ صرف پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے لائی بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی تھا کہ ہمیں معلوم ہے ڈپلومیسی کا فن ۔ اور ہم نے اسے صرف تعلقات کے لیے نہیں، بلکہ تعلیم، ترقی، اور ٹیکنالوجی کے لیے اپنایا ہے۔
اس خطاب کو عالمی ماہرین تعلیم اور سفارتکاروں نے سراہا۔ یہ صرف تعلیم کی بات نہیں تھی بلکہ وژن کی بات تھی اور جب وژن میں ڈپلومیسی شامل ہو تو اس کی چمک دو چند ہو جاتی ہے۔
ڈپلومیسی فورم جیسے عالمی ایونٹس صرف فوٹو سیشن یا چائے کے وقفے نہیں ہوتے۔ یہ وہ مقام ہوتے ہیں جہاں نرم جملوں میں سخت فیصلے لپٹے ہوتے ہیں۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک پیغام ہوتا ہے اور ہر مصافحے کے اندر کئی مفروضے چھپے ہوتے ہیں۔ایسے فورمز دنیا کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں خاص طور پر جب بات تعلیم کی ہو۔ نوجوانوں کو مستقبل کا سرمایہ سمجھنا، تعلیم کو بقا سے جوڑنا یہی وہ سوچ ہے جو کسی بھی قوم کو بلند کر سکتی ہے۔ جب ہم واپس اپنی اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ ’’ڈپلومیسی کیا ہے؟‘‘ تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف سیاستدانوں کا ہتھیار نہیں بلکہ زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔یہ وہ فن ہے جو تعلقات کو بناتا بھی ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے اور اگر کوئی اسے مہارت سے استعمال کرے تو نہ صرف دوست بناتا ہے بلکہ دشمن کو بھی قائل کر لیتا ہے۔
تو اگلی بار جب کوئی سیاستدان نہایت شائستگی سے کہے: ’’ہم نے تعلیم کو اولین ترجیح دی ہے‘‘! تو سمجھ جائیے کہ وہ یا تو واقعی سنجیدہ ہے یا بہت اعلیٰ درجے کا ڈپلومیٹ!

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کیے جا رہے ہیں مریم نواز نواز شریف نہیں بلکہ انہوں نے ہے اور نے کہا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز
  • میرپور جلسہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کے بڑے اعلانات، نواز شریف کے وعدوں اور آزاد کشمیر کی ترقی کا نیا روڈ میپ پیش
  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • نواز شریف کا کیا گیا وعدہ پورا، 10 جدید الیکٹرک بسوں کا تحفہ آزاد کشمیر روانہ
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم