شی زانگ کے امور پر غیر مناسب رویے کے حامل امریکی اہلکاروں پر ویزا پابندیاں عائد کی جائیں گی، چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کی یومیہ پریس کانفرنس میں ایک سوال پوچھا گیا کہ حال ہی میں امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چینی عہدیداروں پر ویزا پابندیاں عائد کرے گا جو غیر ملکیوں کو تبتی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے پر مبنی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، چین اس کا کیا جواب دے گا ؟پیر کے روز اس حوالے سے ترجمان لین جیئن نے کہا کہ شی زانگ کے معاملات خالصتاً چین کے داخلی معاملات ہیں۔
امریکہ نے شی زانگ سے متعلق مسائل کے بہانے چینی حکام پر اندھا دھند ویزا پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس سے بین الاقوامی قوانین اور تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے خارجہ تعلقات کے قانون اور غیر ملکی پابندیوں کے خلاف قانون کی متعلقہ دفعات کے مطابق ، چین نے شی زانگ سے متعلق امور پر غیر مناسب رویہ رکھنے والے امریکی اہلکاروں پر بھی ویزا پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شی زانگ بیرونی دنیا کے لئے کھلا ہے ، اور چین بیرونی ممالک کے دوستوں کو چین کے تبتی خطے میں آنے ، جانے اور کاروبار کرنے کے لئے خوش آمدید کہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم نام نہاد انسانی حقوق، مذہب اور ثقافت کے بہانے کسی بھی ملک میں کسی بھی شخص کی طرف سے شی زانگ کے امور میں مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں اور دورہ شی زانگ کے نام پر مذموم مقاصد کے حامل افراد کی تخریب کاری کی مخالفت کرتے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویزا پابندیاں عائد شی زانگ کے
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔