ڈمپر جلانے پر پہلے بھی گرفتاریاں ہوئی تھیں، اب بھی ہوئی ہیں، ترجمان حکومتِ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
ایک بیان میں ترجمان حکومتِ سندھ نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیئے، ٹریفک پولیس کو پابند کیا گیا ہے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کرنا ہے، 250 کے قریب ہیوی ٹریفک وہیکلز کو فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر بند کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ حکومت کے ترجمان سمعتا افضال نے کہا ہے کہ ڈمپر جلانے پر پہلے بھی گرفتاریاں ہوئی تھیں، اب بھی ہوئی ہیں۔ ترجمان حکومتِ سندھ اور رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سمعتا افضال نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹریفک پولیس کو پابند کیا گیا ہے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ 250 کے قریب ہیوی ٹریفک وہیکلز کو فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر بند کیا گیا ہے۔ سمعتا افضال سید نے کہا ہے کہ قانون اپنی جگہ موجود ہے، ہمیں اس پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فٹنس سرٹیفکیٹ نے کہا ہے کہ کیا گیا ہے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔