Juraat:
2026-07-24@12:14:13 GMT

ہیٹ ویو اور پانی کی قلت کے خطرات

اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT

ہیٹ ویو اور پانی کی قلت کے خطرات

محکمہ موسمیات نے گرمی کی لہر کے حوالے سے متنبہ کیا ہے محکمے نے گرمی کی لہر یعنی ہیٹ ویو کے بارے میں بات کی ہے اور دوسری جانب کہا ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بارشوں میں 41 فیصد کمی واقع ہوئی جس سے پنجاب اور سندھ بہت زیادہ متاثر ہوئے۔

فروری میں سب سے کم بارش ہوئی جس میں منفی آٹھ سے منفی 97 فیصد کم بارشیں ہوئیں۔ کم بارشوں کی وجہ سے خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے فی الوقت صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد دریائے سندھ کے کنارے آباد ہونے کے باوجود پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، شہر میں ان دنوں پانی کی شدید قلت ہے جب دریائے سندھ کے کنارے آباد شہری پینے کے پانی سے محروم ہیں تو کاشتکاروں کو درپیش مسائل کو اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے ۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کی طرح موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان بھی بچا نہیں ہے بلکہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جنھیں اس سال یعنی 2025 سے پانی کے شدید بحران کا سامنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی حکومت اور افراد نے مل کر اس بحران کو حل نہ کیا تو اگلے چند سال میں خشک سالی کی وجہ سے پاکستان میں شدید ترین غذائی بحران شروع ہو جائے گا جس سے نہ صرف یہ کہ ملک کا اقتصادی استحکام متاثر ہوگا بلکہ اس کے وجود کو بھی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے تو ہمیں تیار رہنا ہی ہو گا۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ2023 میں بہار کا موسم نہیں آیا تو اس بار موسم سرما کی بہاروں کافقدان رہا۔ اس کے لیے تو ہمیں تیار رہنا ہی ہو گا۔ماہرین موسمیات نے کہا ہے کہ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں درجہ حرارت اوسط سے6سے 8 سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا اور وسط اور پنجاب بالا، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی درجہ حرارت اوسط سے4 سے 6 ڈگری زیادہ رہے گا۔عالمی ادارے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شدید موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی خرابی اور ہوا میں آلودگی سے پاکستان میں 2050 تک ملک کے جی ڈی پی میں 18 سے 20 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔یہ ایک بہت بڑا نمبر ہے جس سے ملک کی ترقی رک جائے گی۔ پاکستان میں گرمی کی شدت اور سیلاب اس بات کا واضح عندیہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کو ترقیاتی پروگرام اور غربت میں کمی کرنے کی کوششوں میں مشکلات ہوں گی۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث آفات سے 1700 افراد جان گنوا بیٹھے جبکہ 80 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ اس کے علاوہ ملک کو 30 ارب ڈالر کا انفرا اسٹرکچر، فصلوں اور مویشیوں کے بہہ جانے سے معاشی نقصان ہوا۔

پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والی مسائل اور ان کے اثرات کے حوالے سے جو نیشنل اڈاپٹیشن پلان مرتب کیا ہے اس میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہر ایک پر ایک جیسا نہیں ہو گا بلکہ یہ انفرادی طور پر کسی اور طریقے سے، کاروبار کو مختلف، کمیونٹی کو مختلف اور تنظیموں اور حکومتوں کو مختلف طریقے سے متاثر کرے گی نیا میں تیزی سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے اور موسمی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمی تبدیلی بوتل کے جن کی مانند ہے کہ ایک بار باہر آ گیا تو واپس بوتل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ دماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس وقت زیادہ نہیں ہے ہمارے پاس سائنس بھی ہے اور ٹیکنالوجی بھی ہے ۔ مسئلہ سائنس کے نہ ہونے کا نہیں بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قوت ارادی کی کمی ہے۔اب پاکستان کے پاس آپشن ہے اور اسے یہ فیصلہ کرناہے کہ آیا وہ اپنے وجود میں آنے کے 100 سال بعد موسمی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے ماحول دوست اقدامات اٹھا کر معاشی کامیابی کی مثال بننا چاہتا ہے یا نہیں۔پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ترقیاتی پروگرام اور پالیسیاں ازسر نو ترتیب دیناہوں گی۔یہ بات ثابت ہوچکی ہے اور خود ارباب حکومت بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں تمام ویٹ لینڈز یعنی پانی کے ذخائر کو موسمی تبدیلی، سیلاب یا خشک سالی، پانی کی طلب میں اضافے اور بدانتظامی کے باعث مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق موسمی تبدیلی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث ایک طرف سیلاب آتے ہیں اور دوسری جانب گلیشیئروں میں کمی واقع ہو رہی ہے ،جس کی وجہ سے پاکستان میں مجموعی طور پر پانی میں نمایاں کمی واقع ہو گی۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب اور خشک سالی میں اضافہ اور اس کے ساتھ گرمی میں اضافے کی وجہ سے پوری دنیا میں خوراک کی فراہمی میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہو گا جس سے جنوبی اور جنوب مشرق ایشیا میں غذاتی قلت میں اضافہ ہونالازمی امرہے گرمی میں اضافے سے ایشیائی ممالک میں توانائی کی طلب بڑھے گی۔ ایشیا میں 13 ممالک ایسے ہیں جہاں توانائی کا استعمال بہت زیادہ ہے اور ان 13 ممالک میں سے 11 ایسے ہیں جہاں توانائی کا عدم تحفظ اور صنعتی نظام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔پانی کی کمی اور خشک سالی کی وجہ سے خدشہ ہے کہ 24 کروڑ آبادی کا ملک پاکستان خوراک کے ایک بڑے بلکہ خوفناک بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔

عالمی رپورٹس کے مطابق پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کے علاوہ لبنان، افغانستان، شام، ترکی، برکینوفاسو، قطر، اسرائیل، قبرص اور کویت شامل ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ5 براعظموں میں واقع 50 سے زائد ممالک پانی کے مسئلے پر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان سب ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا تو کرنا ہی پڑ رہا ہے لیکن اس کے علاوہ ہر ملک کے اپنے انفرادی مسائل اس نوعیت کے ہیں جس سے وہاں زیرزمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان 10ملکوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جو سب سے زیادہ پانی کی قلت سے متاثر ہو رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق 1950ء میں پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 5,260 مکعب میٹر تھی، جو 2019ء تک کم ہو کر صرف 1,032 مکعب میٹر رہ گئی ہے۔دنیا بھر میں پانی کی طلب بڑھ رہی ہے اور جب طلب سپلائی سے بڑھ جائے تو یہ کمی قوموں کو ایک دوسرے کے مقابل میدان جنگ میں لا کھڑا کرتی ہے۔جنوبی ایشیامیں پانی کی قلتے کے منڈلاتے خطرات کے پیش نظر علاقائی منظرنامے پر نظر رکھنے والے ماہرین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان اگلی جنگ پانی کے مسئلے پر چھڑنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت پر اپنے حصے کے پانی کی چوری کے الزام کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ پہلے ہی بڑھ رہا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ

بھارت اس کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر بندھ باندھ کر اور ڈیم تعمیر کر کے دونوں ممالک کے درمیان عالمی بینک کے ذریعے 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔سرحدوں کے دونوں اطراف کی سیاسی جماعتیں پانی کے مسئلے پر اپنی سیاست بھی چمکا رہی ہیں۔پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 30 دن ہے جب کہ عالمی اوسط 220 دن ہے۔ بحران کی وجوہات میں ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوئا درجہ حرارت اور بارش کا غیر متوقع پیٹرن ملک کے آبی نظام کو متاثر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں خشک سالی اور سیلاب عام ہو جائیں گے۔پاکستان میں پانی کا بحران گھڑی کی ٹک ٹک کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر ہم نے اس کی روک تھام کی جانب فوری توجہ نہیں دی اور اس کیلئے عملی اقدامات نہیں کیے اوراس مسئلے کو نظرانداز کیا تو مستقبل میں ملک کو شدید ماحولیاتی، اقتصادی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پانی کے تحفظ کے لیے بروقت اور موثر حکمت عملی اپنا کر ہی ہم ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔پاکستان میں میٹھے پانی کی کمی کے کئی عوامل ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی کو نہ روکنا اور دیہی آبادی کا شہروں کی طرف تیزی سے منتقل ہونا شامل ہے۔پانی کی کمیابی بنی نوع انسان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان کو پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی جس کے تحت ہنگامی طور پر کئی اقدامات کرنے ہوں گے۔پانی کی بچت: جدید آبپاشی نظام، جیسے کہ ڈرپ اریگیشن اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے والے طریقے متعارف کروا کر پانی کے ضیاع کو کم کرنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں نئے ڈیم اورآبی ذخائر تعمیر کر کے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے۔ ہم 60 کی دہائی کے بعد ہم کوئی بڑا آبی ذخیرہ نہیں بنا سکے، اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی زندگی کی بقا کے لیے تمام ڈیزائن کردہ چھوٹے بڑے ڈیمز اور آبی ذخائر ترجیحاً تعمیر کیے جائیں اور پانی کے کم استعمال اور اس مائع سونے کی حفاظت کا شعور اجاگر کیا جائے۔ زرعی پانی کو ضایع ہونے سے بچانے کے لیے نہروں، راجباہوں کی باقاعدگی کے ساتھ حقیقی معنوں میں بھل صفائی کرنا ضروری ہے،اسی طرح عوام کو، روز مرہ کے گھریلو استعمال کے لیے ضرورت کے مطابق پانی استعمال کرنے کا کلچر اختیار کرنے کی تربیت دینے اور پانی ضائع کرنے پر سزائیں دینے کا قانون نافذ کرنا اب از بس ضروری ہوگیاہے، یہ بات ذہن نشین رہے کہ پانی کے بغیر انسانی زندگی ناممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی کے موسمیاتی تبدیلی سے موسمی تبدیلی پاکستان میں سے پاکستان ممالک میں کی وجہ سے متاثر ہو کا سامنا کے اثرات کے علاوہ کے مطابق میں پانی خشک سالی تیزی سے پانی کی کے پانی کے باعث کرنے کی پانی کے اور اس کے لیے ہے اور کی کمی رہا ہے رہی ہے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا