Express News:
2026-06-02@23:25:17 GMT

قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار اور عوام

اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT

کالی گھٹا چھا جائے تو بارش برستی ہے، موسم گرما میں سمندری ہوا رک جائے تو گرم لُو کے تھپیڑے چلنے لگتے ہیں، صبح سے شام ہو جائے تو رات بھی آ جاتی ہے۔ رات گہری ہو جائے تو سکوت بھی طاری ہو جاتا ہے۔ حلوہ، زردہ، بریانی، گلاب جامن، چم چم، رس گلوں کا ذکر آ جائے تو منہ میں پانی آ ہی جاتا ہے۔

حقیقت سے قبل ذکر ہوتا ہے، تذکرہ ہوتا ہے، یقین دہانی کے لیے بار بار دہرایا جاتا ہے، اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، ثبوت کے لیے اشارے سامنے لائے جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا یہ سنتے رہے کہ مہنگائی میں اتنے فی صد کمی ہو گئی، پھر سن لیا، پھر سنتے رہے۔ یقین کر لیا کہ حکومت نے کہا کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے، جیب کو تسلی دی کہ اب سبکی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ غریبوں نے اعدادو شمار سن لیے بلکہ کئی نے تو اچھی طرح یاد کر لیے، غریبوں نے گھر میں بچوں کو یقین دہانی کرا دی کہ ’’ یہ گیا اور وہ آیا، آج تو تمہارا بابا مرغی لایا‘‘ بس پھرکیا تھا بازار پہنچے چاند رات کو اور ہوش اڑ گئے، کہاں گئی وہ سستائی، کہاں گئی وہ ارزانی، وہاں تو ہر طرف مہنگائی تھی، کیونکہ مہنگائی میں کمی کا سن رہے تھے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ذہن کہہ رہا تھا کہ خبریں یہ ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی نمایاں شرح دیکھی گئی اور پھر یہ بھی بتایا گیا کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کم ہو کر 4.

1 فی صد پر رہی اور پھر جنوری 2025 میں مہنگائی کی شرح مزید کم ہو کر 2.4 فی صد پر آگئی، وہ تو بھلا ہو وزیر خزانہ کا جنھوں نے اعتراف کیا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود عام عوام کو اس کا فائدہ محسوس نہیں ہو رہا۔

انھوں نے اس صورت حال کا ذمے دار مڈل مین کو قرار دیا، مہنگائی میں کاغذی اور خبروں میں کمی کی اطلاعات سے ہٹ کر ایک وزیر کی یہ وضاحت مدنظر رکھنا ہوگی جنھوں نے بات واضح کر دی کہ مہنگائی کم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ قیمتیں کم ہوئی ہیں بلکہ قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں کمی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں بات اب واضح ہوگئی ہے کہ مہنگائی میں کمی کے اعداد و شمار اور قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں کمی کو سمجھنے کے لیے بہت وقت درکار ہوگا، یعنی اس کو یوں سمجھ لیتے ہیں کہ مہنگائی کم بھی ہوگئی ہے لیکن بازاروں، مارکیٹوں، شاپنگ پلازوں میں اس کی گونج نہیں پہنچی، کیونکہ مرغی والا اپنی دکان پر بے پروا ہو کر بڑھتی قیمت کا بورڈ لگا دیتا ہے۔ گوشت والا قیمت بڑھانے پر تو راضی ہے لیکن شاید کم کرنے کا کہو تو وہ چھری جو اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہی نہ دکھا دے، اسی لیے جس نے خریدنا ہوتا ہے وہ خاموشی سے خرید لیتے ہیں۔

حکومت کہتی ہے کہ قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار کم ہوئی ہے، مزدور جو مزدوری کرکے تمام پیسے جیب میں جمع کرکے اپنے بلکتے بچے کے لیے بند ڈبے کا دودھ خریدنے جاتا ہے کہ اس بات کا کیا مطلب ہے کہ قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں کمی آئی ہے۔ بڑھتی قیمت سن کر سمجھ جاتا ہے کہ بس اب مہنگائی کی چھری کے چلنے کی رفتار میں کمی آئی ہے۔ فاقے تو ہو رہے ہیں لیکن شاید اس کے احساس کرنے کی رفتار میں کمی آئی ہے۔

غریب کے گھر میں آج بھی دال ہی پک رہی ہے لیکن دال کے دانوں میں کمی کر دی ہے تاکہ وہ قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں کمی کا ساتھ دے سکے۔ لوگ پہلے ہی بے روزگار ہیں، ان دنوں کراچی سے پونے چار لاکھ بچے سالانہ امتحانات دے رہے ہیں جوکہ جلد ہی بے روزگاروں کی قطار میں کھڑے ہوں گے، اسی طرح پورے پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے اور یوں بے روزگاروں کی تعداد میں کتنا زیادہ اضافہ ہوگا، حکومت مہنگائی کی رفتار میں کمی سے صرف نظر کر لے کیونکہ اس سے تو غریب نمٹ لے گا۔ فی الحال لاکھوں کی تعداد میں بے روزگاروں کی شمولیت کو بے روزگاری بڑھنے کی رفتارکی شرح میں اضافے کو تسلیم کرے اور اس کا فوری مداوا کرے۔

اس سلسلے میں بیلاروس کو ڈیڑھ لاکھ ہنرمند افراد فراہم کیے جائیں گے چونکہ 80 سال میں ہم اپنے ہنرمند بیٹوں کو وہ روزگار، وہ مقام نہ دے سکے۔ لہٰذا اب با امر مجبوری ان کو دوسرے دیس روانہ کریں گے۔ یہ لوگ وہاں جا کر مشینوں کی مانگ پوری کریں گے۔ اپنے پسینوں کی تری سے ان مشینوں کو مل مل کر چمکائیں گے۔ حکومت ان کو بھیجے لیکن ان کی شرائط ملازمت، وہاں پر کس طرح اپنے رنگ ڈھنگ سے زندگی بسر کریں گے، دیگر تمام امور کا بھرپور خیال رکھے تاکہ ان کے لواحقین کچھ نہ کچھ مطمئن رہیں اور اس بات کی کوشش کی جائے کہ بیلاروس جیسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ملک میں جا کر اپنے ہنر کو چار چاند لگا کر واپس جب آئیں تو اپنے ملک کی ترقی کی رفتار کو کسی طرح سے مزید بڑھانے کا سبب بنیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مہنگائی میں مہنگائی کم کہ مہنگائی مہنگائی کی جاتا ہے جائے تو کے لیے

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود