سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سماجی سلامتی کو خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

امریکا کے سابق صدر جوبائیڈن نے شکاگو میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اخراجات میں کٹوتی سے متعلق صدرٹرمپ کے منصوبوں پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے عمر رسیدہ امریکیوں کو بہت نقصان کا سامنا ہو گا، نئی انتظامیہ نے اتنے کم عرصے میں اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ اب تک 7 ہزار ملازمین کو نکالا جا چکا ہے، یہ لوگ مڈل کلاس اور ملازمت پیشہ طبقے کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوست امیر تر ہو جائیں، آخر یہ لوگ اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے سابق صدر پر جملہ کسا تھا۔

کیرولائن لیوٹ نے کہا تھا کہ حیرت ہے جوبائیڈن رات کو خطاب کریں گے، میں تو سمجھ رہی تھی کہ تقریر کے وقت سے بہت پہلے ان کے سونے کا وقت ہو جاتا ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے