محکمہ سول سپلائی جی بی کے افسران و ملازمین نے علامتی ہڑتال شروع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
ملازمین کا کہنا ہے کہ محکمے کے کئی سینئر آفیسران ترقیوں کے منتظر ہیں مگر ان کو ترقیاں دینے کے بجائے سکریٹریٹ سے لاکر لوگوں کو ہمارے اوپر مسلط کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترقیوں کا راستہ روکنے کے خلاف محکمہ سول سپلائی گلگت بلتستان کے آفیسران اور عملے نے علامتی ہڑتال شروع کر دی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ محکمے کے کئی سینئر آفیسران ترقیوں کے منتظر ہیں مگر ان کو ترقیاں دینے کے بجائے سکریٹریٹ سے لاکر لوگوں کو ہمارے اوپر مسلط کیا جا رہا ہے۔ سکریٹریٹ سے ہی لوگوں کو لاکر ہمارے اوپر مسلط کیا جانا ہے اور ہمارے لئے ترقیوں کا راستہ روکنا ہے تو محکمہ سول سپلائی کو ہی بند کر دیا جائے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ سکریٹریٹ سے آفیسران لا کر ہماری ترقیوں کا راستہ روکنا کونسا قانون ہے؟ کیا ہمارے محکمے کے اندر کام کرنے والے آفیسران اور عام ملازمین کے اندر صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ترقیاں حاصل کریں۔ جب سکریٹریٹ سے آفیسران محکمہ سول سپلائی میں لائے جا سکتے ہیں اور انہیں پرکشش مراعات اور عہدے دئیے جا سکتے ہیں تو ہمارے آفیسران اور عام ملازمین کو بھی سکریٹریٹ میں بٹھا دیا جائے یہی انصاف اور قانون کا تقاضا بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ سول سپلائی سکریٹریٹ سے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔